صدر زرداری کی اماراتی وزیراعظم سے ملاقات، تعلقات بڑھانے پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے دوبئی میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیرِ اعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماو ں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا، بالخصوص اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ صدر زرداری نے شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کو بطور حاکمِ دبئی دو دہائیوں پر محیط قیادت پر مبارکباد دی اور دبئی کی سیاحت، مالیات اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے عالمی مرکز کے طور پر شاندار ترقی کو سراہا۔ صدرِ مملکت نے پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات، بشمول سرمایہ کاری میں سہولت کاری اور نجکاری، پر روشنی ڈالی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ انفراسٹرکچر کی ترقی، لاجسٹکس، غذائی تحفظ اور ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں میں تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا۔ صدر زرداری نے عزت مآب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ دونوں جانب سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور دوطرفہ تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اس ملاقات میں خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر نے بھی شرکت کی۔صدر آصف علی زرداری سے ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان احمد بن سلیم نے دبئی میں ملاقات کی ، صدرِ مملکت نے ڈی پی ورلڈ کی پاکستان کے ساتھ مضبوط، مسلسل شراکت داری اور ملک کے لاجسٹکس، بندرگاہی آپریشنز اور بنیادی ڈھانچے میں اس کے کردار کو سراہا۔ ملاقات میں پاکستان اور ڈی پی ورلڈ کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ یہ اقدامات بہتر روابط اور جدید لاجسٹکس انفراسٹرکچر کے ذریعے پاکستان کو علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ حب کے طور پر قائم کرنے کے قومی ہدف سے ہم آہنگ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اور متحدہ عرب امارات متحدہ عرب امارات کے
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔