City 42:
2026-07-24@10:33:31 GMT

سولر پینل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

ویب ڈیسک:  چین کی جانب سے ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے بعد عالمی سولرانڈسٹری میں قیمتوں میں اضافے کی نئی لہر آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سولر مارکیٹ پر بھی پڑیں گے۔ چین دنیا میں فوٹو وولٹائیک (PV) آلات کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے۔

جنوری 2026 میں چین کی وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ ٹیکسیشن ایڈمنسٹریشن نے اعلان کیا کہ فوٹو وولٹائیک مصنوعات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) کی برآمدی رعایتیں مکمل طور پر ختم کی جا رہی ہیں، جو یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔ اس فیصلے کے تحت پی وی ماڈیولز پر دی جانے والی برآمدی رعایت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی، جبکہ بیٹری مصنوعات پر رعایتیں بتدریج کم کر کے 2027 تک ختم کر دی جائیں گی۔

پشاوربورڈ نے میٹرک امتحانات کے شیڈول کا اعلان کردیا

صنعتی ماہرین کے مطابق اس اقدام نے پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی سپلائی چین پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف 9 فیصد برآمدی رعایت کے خاتمے سے ہی سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں اسی تناسب سے اضافہ ہو سکتا ہے۔

شنگھائی میٹلز مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس پالیسی تبدیلی سے ایک معیاری 210R فوٹو وولٹائیک ماڈیول پر برآمدی منافع میں فی یونٹ 51 یوآن تک کمی آ سکتی ہے، جس کے باعث بیرونِ ملک خریداروں کو قیمتوں میں اضافے کا بوجھ منتقل کرنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک سینئر سولر تجزیہ کار کے مطابق، “یہ معمولی ایڈجسٹمنٹ نہیں بلکہ لاگت میں ایک بنیادی اور ساختی تبدیلی ہے۔”

پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے چوری ہونے لگے، چوری سے بچانےکیلئے بعض اثاثوں کی نیلامی کا فیصلہ

پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاصی اہم ہے، جہاں بجلی کے بلند نرخوں اور مسلسل لوڈشیڈنگ کے باعث سولر توانائی کی تنصیبات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بڑی حد تک سولر ماڈیولز کی درآمد پر انحصار کرتا ہے، جن میں زیادہ تر چین سے آتے ہیں، جس کے باعث مقامی منصوبوں کی لاگت عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔

صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والے عوامل میں خام مال کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔ حالیہ مہینوں میں پولی سیلیکون اور چاندی جیسی اہم اشیا کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھی ہیں۔ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق پولی سیلیکون کی قیمتوں میں ماہ بہ ماہ تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ چاندی کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں، جس سے سولر ماڈیولز کی لاگت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

پی ٹی آئی کو دھچکا، 2اہم رہنما عہد ے سے مستعفی

عالمی تجزیہ کاروں، بشمول بلومبرگ این ای ایف، کا کہنا ہے کہ چین کی اس پالیسی تبدیلی کا حجم مارکیٹ کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان کو معاہدوں پر نظرثانی اور قیمتوں میں رد و بدل کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی مینوفیکچررز پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ اپریل کے بعد سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں 9 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس صورتحال کے باعث عالمی خریدار اپریل کی ڈیڈ لائن سے قبل اپنی خریداری تیز کر رہے ہیں، کیونکہ اس تاریخ کے بعد بھیجی جانے والی کھیپیں موجودہ رعایتی نظام کی اہل نہیں ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق قلیل مدت میں برآمدات میں تیزی آ سکتی ہے، تاہم اس کے بعد قیمتیں بڑھنے اور طلب میں کمی کا امکان ہے۔

واٹس ایپ کا صارفین کو سائبر اٹیک سے بچاؤ  کیلئے بہترین سکیورٹی فیچر متعارف کرانے کا اعلان

پاکستان کے سولر سیکٹر کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند ماہ انتہائی اہم ہوں گے۔ اگرچہ سولر توانائی اب بھی روایتی بجلی کے مقابلے میں نسبتاً سستی ہے، تاہم قیمتوں میں مسلسل اضافہ خاص طور پر قیمت کے لحاظ سے حساس صارفین کے لیے سولر اپنانے کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: قیمتوں میں اضافے کی قیمتوں میں کے مطابق اضافہ ہو کے باعث کے بعد رہا ہے

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ