City 42:
2026-06-02@22:42:15 GMT

سولر پینل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

ویب ڈیسک:  چین کی جانب سے ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے بعد عالمی سولرانڈسٹری میں قیمتوں میں اضافے کی نئی لہر آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سولر مارکیٹ پر بھی پڑیں گے۔ چین دنیا میں فوٹو وولٹائیک (PV) آلات کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے۔

جنوری 2026 میں چین کی وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ ٹیکسیشن ایڈمنسٹریشن نے اعلان کیا کہ فوٹو وولٹائیک مصنوعات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) کی برآمدی رعایتیں مکمل طور پر ختم کی جا رہی ہیں، جو یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔ اس فیصلے کے تحت پی وی ماڈیولز پر دی جانے والی برآمدی رعایت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی، جبکہ بیٹری مصنوعات پر رعایتیں بتدریج کم کر کے 2027 تک ختم کر دی جائیں گی۔

پشاوربورڈ نے میٹرک امتحانات کے شیڈول کا اعلان کردیا

صنعتی ماہرین کے مطابق اس اقدام نے پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی سپلائی چین پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف 9 فیصد برآمدی رعایت کے خاتمے سے ہی سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں اسی تناسب سے اضافہ ہو سکتا ہے۔

شنگھائی میٹلز مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس پالیسی تبدیلی سے ایک معیاری 210R فوٹو وولٹائیک ماڈیول پر برآمدی منافع میں فی یونٹ 51 یوآن تک کمی آ سکتی ہے، جس کے باعث بیرونِ ملک خریداروں کو قیمتوں میں اضافے کا بوجھ منتقل کرنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک سینئر سولر تجزیہ کار کے مطابق، “یہ معمولی ایڈجسٹمنٹ نہیں بلکہ لاگت میں ایک بنیادی اور ساختی تبدیلی ہے۔”

پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے چوری ہونے لگے، چوری سے بچانےکیلئے بعض اثاثوں کی نیلامی کا فیصلہ

پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاصی اہم ہے، جہاں بجلی کے بلند نرخوں اور مسلسل لوڈشیڈنگ کے باعث سولر توانائی کی تنصیبات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بڑی حد تک سولر ماڈیولز کی درآمد پر انحصار کرتا ہے، جن میں زیادہ تر چین سے آتے ہیں، جس کے باعث مقامی منصوبوں کی لاگت عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔

صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والے عوامل میں خام مال کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔ حالیہ مہینوں میں پولی سیلیکون اور چاندی جیسی اہم اشیا کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھی ہیں۔ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق پولی سیلیکون کی قیمتوں میں ماہ بہ ماہ تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ چاندی کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں، جس سے سولر ماڈیولز کی لاگت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

پی ٹی آئی کو دھچکا، 2اہم رہنما عہد ے سے مستعفی

عالمی تجزیہ کاروں، بشمول بلومبرگ این ای ایف، کا کہنا ہے کہ چین کی اس پالیسی تبدیلی کا حجم مارکیٹ کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان کو معاہدوں پر نظرثانی اور قیمتوں میں رد و بدل کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی مینوفیکچررز پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ اپریل کے بعد سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں 9 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس صورتحال کے باعث عالمی خریدار اپریل کی ڈیڈ لائن سے قبل اپنی خریداری تیز کر رہے ہیں، کیونکہ اس تاریخ کے بعد بھیجی جانے والی کھیپیں موجودہ رعایتی نظام کی اہل نہیں ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق قلیل مدت میں برآمدات میں تیزی آ سکتی ہے، تاہم اس کے بعد قیمتیں بڑھنے اور طلب میں کمی کا امکان ہے۔

واٹس ایپ کا صارفین کو سائبر اٹیک سے بچاؤ  کیلئے بہترین سکیورٹی فیچر متعارف کرانے کا اعلان

پاکستان کے سولر سیکٹر کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند ماہ انتہائی اہم ہوں گے۔ اگرچہ سولر توانائی اب بھی روایتی بجلی کے مقابلے میں نسبتاً سستی ہے، تاہم قیمتوں میں مسلسل اضافہ خاص طور پر قیمت کے لحاظ سے حساس صارفین کے لیے سولر اپنانے کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: قیمتوں میں اضافے کی قیمتوں میں کے مطابق اضافہ ہو کے باعث کے بعد رہا ہے

پڑھیں:

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا