City 42:
2026-07-24@11:18:36 GMT

سولر پینل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

ویب ڈیسک:  چین کی جانب سے ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے بعد عالمی سولرانڈسٹری میں قیمتوں میں اضافے کی نئی لہر آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سولر مارکیٹ پر بھی پڑیں گے۔ چین دنیا میں فوٹو وولٹائیک (PV) آلات کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے۔

جنوری 2026 میں چین کی وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ ٹیکسیشن ایڈمنسٹریشن نے اعلان کیا کہ فوٹو وولٹائیک مصنوعات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) کی برآمدی رعایتیں مکمل طور پر ختم کی جا رہی ہیں، جو یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔ اس فیصلے کے تحت پی وی ماڈیولز پر دی جانے والی برآمدی رعایت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی، جبکہ بیٹری مصنوعات پر رعایتیں بتدریج کم کر کے 2027 تک ختم کر دی جائیں گی۔

پشاوربورڈ نے میٹرک امتحانات کے شیڈول کا اعلان کردیا

صنعتی ماہرین کے مطابق اس اقدام نے پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی سپلائی چین پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف 9 فیصد برآمدی رعایت کے خاتمے سے ہی سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں اسی تناسب سے اضافہ ہو سکتا ہے۔

شنگھائی میٹلز مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس پالیسی تبدیلی سے ایک معیاری 210R فوٹو وولٹائیک ماڈیول پر برآمدی منافع میں فی یونٹ 51 یوآن تک کمی آ سکتی ہے، جس کے باعث بیرونِ ملک خریداروں کو قیمتوں میں اضافے کا بوجھ منتقل کرنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک سینئر سولر تجزیہ کار کے مطابق، “یہ معمولی ایڈجسٹمنٹ نہیں بلکہ لاگت میں ایک بنیادی اور ساختی تبدیلی ہے۔”

پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے چوری ہونے لگے، چوری سے بچانےکیلئے بعض اثاثوں کی نیلامی کا فیصلہ

پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاصی اہم ہے، جہاں بجلی کے بلند نرخوں اور مسلسل لوڈشیڈنگ کے باعث سولر توانائی کی تنصیبات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بڑی حد تک سولر ماڈیولز کی درآمد پر انحصار کرتا ہے، جن میں زیادہ تر چین سے آتے ہیں، جس کے باعث مقامی منصوبوں کی لاگت عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔

صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والے عوامل میں خام مال کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔ حالیہ مہینوں میں پولی سیلیکون اور چاندی جیسی اہم اشیا کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھی ہیں۔ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق پولی سیلیکون کی قیمتوں میں ماہ بہ ماہ تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ چاندی کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں، جس سے سولر ماڈیولز کی لاگت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

پی ٹی آئی کو دھچکا، 2اہم رہنما عہد ے سے مستعفی

عالمی تجزیہ کاروں، بشمول بلومبرگ این ای ایف، کا کہنا ہے کہ چین کی اس پالیسی تبدیلی کا حجم مارکیٹ کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان کو معاہدوں پر نظرثانی اور قیمتوں میں رد و بدل کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی مینوفیکچررز پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ اپریل کے بعد سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں 9 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس صورتحال کے باعث عالمی خریدار اپریل کی ڈیڈ لائن سے قبل اپنی خریداری تیز کر رہے ہیں، کیونکہ اس تاریخ کے بعد بھیجی جانے والی کھیپیں موجودہ رعایتی نظام کی اہل نہیں ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق قلیل مدت میں برآمدات میں تیزی آ سکتی ہے، تاہم اس کے بعد قیمتیں بڑھنے اور طلب میں کمی کا امکان ہے۔

واٹس ایپ کا صارفین کو سائبر اٹیک سے بچاؤ  کیلئے بہترین سکیورٹی فیچر متعارف کرانے کا اعلان

پاکستان کے سولر سیکٹر کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند ماہ انتہائی اہم ہوں گے۔ اگرچہ سولر توانائی اب بھی روایتی بجلی کے مقابلے میں نسبتاً سستی ہے، تاہم قیمتوں میں مسلسل اضافہ خاص طور پر قیمت کے لحاظ سے حساس صارفین کے لیے سولر اپنانے کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: قیمتوں میں اضافے کی قیمتوں میں کے مطابق اضافہ ہو کے باعث کے بعد رہا ہے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں