پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحق ڈار نے آج ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے فون پر گفتگو کی۔
خطے میں کشیدگی پر تشویشمحمد اسحق ڈار نے خطے میں بدلتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہیں۔
قریبی رابطے کا عزمدونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے تاکہ علاقائی امن اور مستحکم تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقیچی نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقیچی نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔