وی ایکسکلوسیو: پاکستان نے مشکل وقت کاٹ لیا اب منزل ترقی ہے، وفاقی وزیر تجارت جام کمال
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر تجارت جام کمال کا کہنا ہے کہ پاکستان سنگین معاشی بحران سے نکل کر استحکام کے بعد اب ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے اور آنے والے برسوں میں عوام کو معاشی بہتری کے ثمرات ملنے شروع ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک نے پاکستان کی ترقی میں بطور ایک اہم شراکت دار کلیدی کردار ادا کیا، وزیراعظم
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جام کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ 3 سے 4 سال کے دوران جن معاشی مشکلات سے گزرا دنیا میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق چند سال قبل صورتحال یہ تھی کہ ملک کے فارن ریزروز خطرناک حد تک کم ہو چکے تھے، درآمدی ایل سیز کھولنی مشکل تھیں، فارن ایکسچینج کا حصول مسئلہ بن چکا تھا اور ہر طرف ڈیفالٹ کے خدشات زیر بحث تھے۔
جام کمال نے کہا کہ آج اگر اس دور کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو مہنگائی میں کمی، پالیسی ریٹ میں بہتری، بجلی کے نرخوں میں کمی، فارن ریزروز میں اضافہ اور عالمی مالیاتی اشاریوں میں بہتری واضح طور پر نظر آتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کو عالمی اداروں کی حمایت حاصل ہوئی اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بھی بہتری آئی جو عالمی سطح پر اعتماد کی علامت ہے۔
مزید پڑھیے: سب کو مل جل کر پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، عطا تارڑ
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یورپ، گلف، فار ایسٹ اور امریکا جیسے ممالک کی جانب سے پاکستان کو ریکگنیشن اور رسپیکٹ ملنا ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایکسپورٹس کے حوالے سے خدشات موجود تھے لیکن حکومت نے نہ صرف انہیں مستحکم رکھا بلکہ ان میں پیشرفت بھی دکھائی ہے۔
جام کمال کے مطابق پاکستان ایک بحران سے نکل کر اسٹیبلیٹی کی طرف آیا ہے اور اب اسٹیبلیٹی سے گروتھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے اس پیشرفت کا کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار، وفاقی کابینہ اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ کاوشوں کو دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ زراعت، مینوفیکچرنگ، ایکسپورٹس اور عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کی منڈی پاکستان کے لیے کھلی ہے، جی ایس پی پلس کی ایویلیوایشن مثبت رہی، جبکہ افریقی، سینٹرل ایشیائی، آسیان ممالک، بنگلہ دیش، برطانیہ اور جی سی سی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
جام کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ویتنام، جنوبی کوریا، جاپان، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت نئی منڈیوں میں بھی قدم رکھا ہے۔
مزید پڑھیں: معاشی استحکام بحال، فچ ایجنسی نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر رپورٹ جاری کردی
بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سیاسی اور معاشی استحکام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اندرونی سطح پر ٹیکس نظام، پیداواری لاگت اور توانائی کے نرخ بڑے چیلنجز ہیں جبکہ عام پاکستانی کے لیے کاروبار کو آسان بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی مقصد کے لیے ای آفس سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جس سے شفافیت، احتساب اور فائل ٹریکنگ ممکن ہوئی ہے۔
جام کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان سفارتی اور معاشی تنہائی سے نکل چکا ہے اور اگر 3 سال پہلے اور آج کی صورتحال کا موازنہ کیا جائے تو نمایاں فرق نظر آتا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ 100 فیصد اہداف ابھی حاصل نہیں ہوئے تاہم ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نظر میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں پر مزید مشاورت، خصوصاً صنعت اور زراعت جیسے شعبوں میں، وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی معاشی پوزیشن منفی سے مستحکم ہوگئی، عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کا اعلامیہ
جام کمال نے مزید کہا کہ ٹیکس اصلاحات ایک بڑا چیلنج ضرور ہیں لیکن وزیراعظم کی قیادت میں اس حوالے سے اصلاحاتی عمل جاری ہے تاہم اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کی ترقی پاکستان میں معاشی استحکام وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کی ترقی پاکستان میں معاشی استحکام وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان جام کمال کا کہنا کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر کہ پاکستان پاکستان کی نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔