پیپلزپارٹی چاہتی تو کام کرکے باقی جماعتوں کی سیاست ختم کرسکتی تھی، مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر صحت اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی چاہتی تو اپنے کام کے ذریعے باقی جماعتوں کی سیاست ختم کرسکتی تھی۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ گل پلازا کا سانحہ آخری سانحہ نہیں، وہ جوڈیشل کمیشن کی بات اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ اگلے حادثات سے بچنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، ہم اس نہج پر ایک دن میں نہیں 18 سال میں پہنچے ہیں، ہماری جو بھی کمی کوتاہی ہے، وہ جوڈیشل انکوائری سے پتہ چل جائے گی۔
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی تو اپنے کام کے ذریعے باقی جماعتوں کی سیاست ختم کرسکتی تھی، کراچی کی پوری سڑکیں کھدی ہوئی ہیں، لوگ پانی خریدنے پر مجبور ہیں اور سیکیورٹی کا کوئی نظام نہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم وفاقی حکومت میں ہیں، ہم نے لڑ کر وفاق سے کراچی کےلیے 15 ارب روپے کا پیکیج لیا، اس پیکیج پر کام شروع ہوگیا، وزیراعلیٰ سندھ نے خط لکھ کر کام بند کروادیا، وجہ صرف یہ تھی کہ پیسہ ایم کیو ایم کے ذریعے خرچ ہو رہا تھا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سانحے کے بعد کوئی ایک سڑک یا دکان بند نہیں ہوئی، ہم آئینی اور قانونی بات کر رہے ہیں جھگڑے کی بات نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ اپنے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہوجائے تو وفاق کو اختیار ہے کہ اس معاملے میں مداخلت کرے، غلط یا صحیح ہمارے لوگوں نے 18ویں ترمیم پر دستخط کیے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی موجودہ حکومت میں شامل ہونے سے پہلے ہم نے 26ویں آئینی ترمیم کےلیے ایم او یو پر دستخط کیے، ہماری ترمیم تھی کہ جو اختیارات صوبوں سے ڈسٹرکٹ کو جانے ہیں وہ آئین میں لکھ دیے جائیں۔ این ایف سی ایوارڈ کے بعد پی ایف سی ایوارڈ آئین میں لکھ دیا جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کے وقت ن لیگ مان گئی مگر پیپلز پارٹی نہیں مانی، ن لیگ نے کہا کہ 26ویں ترمیم ہونے دیں ہم آپ کی ترامیم 27ویں ترمیم میں شامل کرلیں گے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے وقت وزیر اعظم نے بلوایا اور کہا کہ پیپلز پارٹی نہیں مان رہی ہم انہیں منالیں گے، اسٹینڈنگ کمیٹی میں بحث ہوئی، پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر یہ شامل کی گئی تو وہ 27ویں ترمیم کی حمایت نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور دیگر لوگوں سے کال آگئی کہ اپنی ترامیم کو واپس لے لیں پیپلز پارٹی نہیں مان رہی، اب ہمیں 28ویں ترمیم پر لگادیا گیا ہے کہ اس میں ہماری ترامیم شامل کرلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ اراکین نے ہماری آئینی ترامیم کی حمایت کی، ترمیم کے بعد اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوجاتے تو کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیوں کرتا؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ترمیم کے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز