بنگلہ دیش انتخابات: اے بی پارٹی نے مختلف راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
امار بنگلہ دیش پارٹی (اے بی پارٹی) کے چیئرمین مجیب الرحمان منجو نے خبردار کیا ہے کہ اگر بنگلہ دیش کے آئندہ قومی انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو برابر کا انتخابی میدان (لیول پلیئنگ فیلڈ) فراہم نہ کیا گیا تو ان کی جماعت کوئی متبادل فیصلہ کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔
مجیب الرحمان منجو نے یہ بات جمعرات کے روز فینی ضلع سے اپنی انتخابی مہم کے باقاعدہ آغاز کے موقع پر کہی۔ انتخابی مہم کا آغاز دوپہر کے بعد فینی کی مرکزی بورو جامع مسجد سے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے آئندہ انتخابات بنگلہ دیش میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کا معیار قائم کریں گے، محمد یونس
واضح رہے کہ اے بی پارٹی کے چیئرمین فینی-2 کے حلقے سے 13ویں جاتیہ سنگسد (قومی اسمبلی) کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہ جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد کے امیدوار ہیں۔
شفاف مقابلہ جمہوریت کی بنیادحامیوں سے خطاب کرتے ہوئے مجیب الرحمان منجو نے کہا کہ انتخابی عمل میں منصفانہ مقابلہ نہایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کی بامعنی شرکت اسی وقت ممکن ہے جب سب کو آزادانہ اور برابر انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہو۔
انتخابی شفافیت پر بڑھتی بحثاے بی پارٹی چیئرمین کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش میں 2026 کے عام انتخابات سے قبل انتخابی شفافیت، سکیورٹی اور سیاسی شمولیت پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کے آئندہ عام انتخابات قریب، کس سیاسی جماعت کا پلڑا بھاری ہے؟
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے انتخابات کا اعتماد اسی صورت بحال ہو سکتا ہے جب تمام جماعتوں کو خوف اور دباؤ سے پاک ماحول فراہم کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امار بنگلہ دیش پارٹی بنگلہ دیش مجیب الرحمان منجو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امار بنگلہ دیش پارٹی بنگلہ دیش مجیب الرحمان منجو مجیب الرحمان منجو اے بی پارٹی بنگلہ دیش
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔