پاکستان میں ہر شہری پر قرضے کا بوجھ بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وزارتِ خزانہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر شہری پر عوامی قرضے کا بوجھ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں فی کس قرضہ 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے تک پہنچ گیا، جو پچھلے سال 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، یعنی صرف ایک سال میں ہر شہری پر تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کی 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی کو مدِنظر رکھتے ہوئے مجموعی عوامی قرضہ جون 2025 تک 71.
مالی سال 2024-25 میں وفاقی مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک پہنچ گیا، جو قانونی حد 3.5 فیصد سے تقریباً دوگنا زیادہ ہے، یعنی حکومت نے 3 کھرب روپے سے زائد خسارہ کیا۔ مجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 70.7 فیصد تک پہنچ گیا، جو پچھلے سال 67.6 فیصد تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اس دوران وفاقی حکومت نے کئی نئے محکمے قائم کیے، کابینہ میں توسیع کی اور نئی گاڑیاں اور فرنیچر خریدے، حالانکہ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے دعوے کیے جا رہے تھے۔
مالی سال 2024-25 کے دوران کل وفاقی اخراجات 18.9 کھرب روپے مقرر کیے گئے، جن میں سے 17.2 کھرب روپے خرچ ہوئے۔ وفاقی حکومت نے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد کے برابر اضافی اخراجات کیے۔ ٹیکس وصولیاں 11.7 کھرب روپے رہیں، جو مقررہ ہدف 13 کھرب روپے کا 90.5 فیصد ہیں، جبکہ نان ٹیکس آمدنیاں 5.1 کھرب روپے تک پہنچیں۔
ترقیاتی اخراجات 1.4 کھرب روپے تک رہے، جو بجٹ کے مقابلے میں کم تھے، جبکہ دفاعی اخراجات بجٹ سے تجاوز کرتے ہوئے 2.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ سود کی ادائیگیاں 8.8 کھرب روپے رہیں۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ بڑھتے ہوئے عوامی قرضے اور مالی خسارہ حکومت کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں، اور ہر پاکستانی شہری پر مالی بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: روپے تک پہنچ کھرب روپے تک تک پہنچ گیا
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔