میرے والد بہت پڑھے لکھے تھے لیکن پھر بھی انہیں اپنی پہلی اولاد بیٹا چاہیے تھا: ونیزہ احمد
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پاکستان کی نامور سابقہ سپر ماڈل ونیزہ احمد نے بیٹیوں اور بیٹوں کی پیدائش پر دقیانوسی سوچ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے ونیزہ احمد نے کہا کہ 'میرے والد بہت پڑھے لکھے شخص تھے لیکن اس کے باوجود مجھے نظر آتا تھا کہ ان کے دل میں ہے انہیں اپنی پہلی اولاد بیٹا چاہیے تھا'۔سابقہ ماڈل نے کہا 'اب آج کے دور میں یہ سوچ بدل رہی ہےکیونکہ اب خواتین کو اپنی قدر آگئی ہے، اب لوگوں کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ ہر کوئی اپنی قسمت لے کر آتا ہے، اپنا سفر وہ خود لکھتا ہے، اپنی کہانی خود تخلیق کرتا ہے'۔ونیزہ احمد کا کہنا تھا کہ 'یہ اب پرانی باتیں ہوگئی ہیں کہ ہم ایسے پیدا ہوئے تھے یا ماں باپ کے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا، ہمارے اماں ابا ایسے تھے، نہیں! 'انہوں نےمزید کہا کہ 'ہم کریئٹرز ہیں، خاص طور پر جو عورتیں ہیں وہ اتنی امیزنگ ہیں کہ یہ لمیٹڈ چیز کہ میں یہ نہیں کرسکتی، لمیٹڈ سوچ کہ میں یہ نہیں کرسکتی، میں یہ بدلنا چاہتی ہوں'۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میں یہ
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔