حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ پر اسرائیل کا کنٹرول رہے گا‘ نیتن یاہو
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260129-01-23
غزہ /تل ابیب /واشنگٹن /نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے بدھ کو کہا ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ پر اسرائیل کا کنٹرول رہے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے دھمکی دی کہ اسرائیلی فوج دریائے اردن سے بحیرہ روم تک پورے علاقے پر سیکورٹی کنٹرول رکھے گی جس میں غزہ بھی شامل ہے‘ غزہ کی تعمیرِ نو سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا اور سرنگوں سمیت اس کے عسکری ڈھانچے کا خاتمہ کرنا ضروری ہے‘ کسی کو غزہ چھوڑنے سے نہیں روکیں گے۔ نیتن یاہو نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خود مختار اور علیحدہ فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے قطر اور ترکی کے کسی بھی فوجی کردار کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے فوجی غزہ میں تعینات نہیں ہوں گے۔امریکی اخبار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس میں طاقت کا منبع صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے۔ امریکی اخبار کے مطابق بورڈ آف پیس کی قرارداد کے مطابق غزہ کا انچارج امریکا ہوگا، اگلے بورڈ آف پیس چیئرمین نامزد کرنے کا مکمل اختیار بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہوگا‘ غزہ بورڈ آف پیس معاہدے میں شامل دیگر ملکوں کا کردار معاون کا ہوگا۔ اسرائیلی فوج نے بدھ کی صبح غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی اپنی خلاف ورزیاں مسلسل 109ویں دن بھی جاری رکھیں، جہاں فضائی اور توپ خانے سے بمباری کی گئی اور شمالی غزہ میں ایک بارودی روبوٹ دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے وسطی غزہ میں دیر البلح شہر کے مشرقی علاقوں پر 2 فضائی حملے کیے، جبکہ قابض فوجی گاڑیوں نے غزہ شہر کے شمالی حصوں میں اندھا دھند فائرنگ کی۔ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی دفتر کے رکن سہیل ہندی نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے فلسطینیوں کے ہتھیار چھیننے کے اعلان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے مزاحمتی ہتھیار براہِ راست اسرائیل کی موجودگی سے جڑے ہیں اور یہ فلسطینی قوم کا فیصلہ ہے جو کسی بھی حالت میں ختم نہیں کیا جا سکتا‘اسرائیلی تسلط تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ہم آہنگی دفتر “اوچا’’ نے خبردار کیا کہ غزہ میں انسانی حالات مسلسل بگڑ رہے ہیں اور انہیں انتہائی المیہ قرار دیا۔ دفتر نے بتایا کہ غزہ میں ایک ملین سے زاید افراد فوری طور پر پناہ گاہ اور امدادی معاونت کے محتاج ہیں، خاص طور پر رہائشی علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی اور بنیادی وسائل کی شدید کمی کے پیش نظر انہیں مدد اور بحالی کی ضرورت ہے۔ حماس نے غزہ کی پٹی کا انتظام فلسطینی کمیشن کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حماس نے کہا ہے کہ غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیشن کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں، جنگ بندی کے آئندہ مرحلے میں ٹیکنو کریٹ کمیشن کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کردار ادا کریں گے۔حماس کے مطابق فلسطینیوں کے حقوق کی واپسی تک جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا، خود مختار ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا، کے قیام تک جدوجہد جاری رہے گی۔حماس نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل درآمد کر رہے ہیں، جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں تمام ذمہ داریاں پوری کیں، جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، اسرائیل کے دوبارہ جنگ مسلط کرنے اور غزہ کی تعمیر نو میں رخنہ ڈالنے کے تمام بہانوں کو سبوتاژ کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس نیتن یاہو کے مطابق غزہ کی کہ غزہ
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔