حماس غزہ کا انتظام فلسطینی کمیشن کے حوالے کرنے پر رضا مند
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
غزہ: (ویب ڈیسک) حماس نے غزہ کی پٹی کا انتظام فلسطینی کمیشن کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حماس نے کہا ہے کہ غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیشن کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں، جنگ بندی کے آئندہ مرحلے میں ٹیکنو کریٹ کمیشن کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کردار ادا کریں گے۔
حماس کے مطابق فلسطینیوں کے حقوق کی واپسی تک جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا، خود مختار ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا، کے قیام تک جدوجہد جاری رہے گی۔
حماس نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل درآمد کر رہے ہیں، جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں تمام ذمہ داریاں پوری کی، جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، اسرائیل کے دوبارہ جنگ مسلط کرنے اور غزہ کی تعمیر نو میں رخنہ ڈالنے کے تمام بہانوں کو سبوتاژ کیا جائیگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔