نومولود بیٹی کو قتل کرنے پر جوڑے کو 17، 17 سال قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ٹیکسلا نے نومولود بچی کو پہلے ہی روز قتل کرنے کے کیس میں مجرم جوڑے کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ٹیکسلا فرحان مدثر نے فیصلہ سنا دیا۔ مجرم جوڑے کو مجموعی طور 34 سال قید اور 80 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
مجرمہ عربیہ بی بی اور ساتھی مجرم ذوالفقار پر فی 40 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ مجرم جوڑے کو سزا کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
مجرم جوڑے نے بیٹی کی پیدائش پر نومولود کو پہلے دن شدید زخمی کر کے پلاٹ میں پھینک دیا تھا، پولیس نے اسپتال پہنچایا مگر بچی دم توڑ گئی۔
راولپنڈی تھانہ صدر واہ کینٹ نے 2 دسمبر 2023 کو مقدمہ درج کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔