لاکھوں کے ڈاکے‘ چوریاں‘ چوہنگ‘ ستوکتلہ 2 گھروں‘ شاد باغ میڈیکل سٹور کا صفایا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور (نامہ نگار) لاہور کے مختلف علاقوں میں ڈاکوو ں اور چوروں نے متعدد شہریوں سے لاکھوں روپے مالیت کی نقدی، طلائی زیورات، موبائل فون، موٹرسائیکلیں،گاڑیاں اور دیگر سامان لوٹ لیا ہے۔ ڈاکوو
ں نے چوہنگ میں رمضان کے گھر میں گھس کر اہلخانہ کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنا کر 5لاکھ روپے، طلائی زیورات، موبائل فون اور دیگر سامان، ستوکتلہ میں صغیر اور اس کی فیملی کو یر غمال بنا کر 3 لاکھ 20 ہزار روپے‘ زیورات اور موبائل فون، مغلپورہ میں فرقان سے ڈیڑھ لاکھ روپے اور موبائل فون،گرین ٹاو ن میں موسی سے 80 ہزار روپے اور موبائل فون، مزنگ میں طلحہ سے 16ہزار روپے اور موبائل فون، سمن آباد میں ریحان سے10 ہزار روپے اور موبائل فون، اکبری گیٹ کے علاقے میں حنیف سے 9 ہزار روپے اور موبائل فون، مسلم ٹاو ن میں شہزاد سے7 ہزار روپے اور موبائل فون لوٹ لیا اور فرار ہوگئے ہیں۔ شاد باغ میں دو ڈاکوو ں نے ایک میڈیکل سٹور سے 60 ہزار روپے نقدی لوٹ لی۔ جس کے بعد ڈاکو فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے ہیں۔ چوروں نے ہنجروال، لیاقت آباد اور رائیونڈ سے 3 کاریں، مزنگ سے رکشہ جبکہ نواب ٹاو ن، ساندہ، گرہن ٹاو
ن، قلعہ گجر سنگھ، غالب مارکیٹ اور کوٹ لکھپت میں سے 6 موٹرسائیکلیں چوری کر لی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ہزار روپے اور موبائل فون
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔