حج اخراجات میں کسی بھی مد میں بچت کا ریلیف حجاج کو منتقل کرینگے: سردار یوسف
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسلام آباد(خبرنگار)وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ حج 2026 ءکے اخراجات میں کسی بھی مد میں بچت ہوئی تو وہ ریلیف براہ راست حجاج کرام کو منتقل کریں گے، طبی بنیادوں پر یا ہارڈ شپ کوٹہ میں کامیاب نہ ہونے والے عازمین حج کو پوری رقم کی واپسی یقینی بنائیں گے، حج کے لئے کسی کا کوٹہ نہیں ہے نہ ہی ارکان پارلیمنٹ کو فری حج کرانے کی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے سال 2025ءکی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت نے حج و عمرہ کے شعبے میں ریکارڈ ساز اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حج 2025 ءکے بہترین انتظامات پر سعودی حکومت نے پاکستان کو ایکسیلنس ایوارڈ سے نوازا ہے جو کہ قومی سطح پر ایک بڑا اعزاز ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔