فیفا ورلڈکپ ٹرافی کا پاکستان دورہ ممکن، فٹبال کے فروغ کے نئے مواقع
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
فیفا ورلڈکپ ٹرافی کے میگا ایونٹ سے قبل پاکستان کے دورے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر شاہد کھوکھر نے ایکسپریس نیوز کے مارننگ شو “ایکسپریسو” میں بطور مہمان گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دورہ ملک میں فٹبال کی ترقی کے لیے نئے مواقع کھول سکتا ہے۔
شاہد کھوکھر نے کہا کہ فیفا کے سربراہ جیانی انفینٹینو کی پاکستان آمد رواں برس کسی وقت ممکن ہے، جس سے پاکستان میں فٹبال کی ترقی کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا سکے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2026 فٹبال ورلڈکپ کے موقع پر پاکستان میں بھی پروموشنل پروگرامز اور پروفیشنل لیگ کے انعقاد کے امکانات ہیں۔
شاہد کھوکھر نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ انتخابات کے بعد محسن گیلانی کی سربراہی میں فیڈریشن فعال ہو گئی ہے اور وہ فٹبال کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو وہ مقام دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا ملک حقدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں رجسٹرڈ فٹبال کلبز کی تعداد تقریباً 6 ہزار ہے، جبکہ ووٹنگ کلبز دو ہزار 400 سے دو ہزار 500 کے درمیان ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ کھیل کے فروغ کے لیے کام ہو رہا ہے۔
شاہد کھوکھر نے کہا کہ فٹبال ہمیشہ سے پاکستان میں مقبول رہا ہے، اور اب میڈیا کوریج اور برانڈنگ کے ذریعے نوجوان نسل میں اس کا جنون مزید بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ویمنز ٹیم کو فیفا سیریز میں شامل کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کو انٹرنیشنل ایونٹس میں مزید کھیلنے کے مواقع ملیں گے، اور مردوں کی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شاہد کھوکھر نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند