کامیاب آپریشنز سے کچے کا 9 0 فیصد علاقہ کلیئر‘ ہسپتال‘ سکول قائم ہونگے
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور (نامہ نگار) رحیم یار خان کچہ کے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی جاری ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس نے کہا حالیہ آپریشن کے دوران ڈرون حملوں کے نتیجے میں مزید ڈاکو زخمی ہوئے۔ ڈاکوو ں کا زیرِ زمین بنکر تباہ کر دیا گیا۔ مجموعی طور پر 139 ڈاکو ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کر چکے ہیں۔ ہیڈ منی والے 12 خطرناک ڈاکوو ں نے بھی سرنڈر کیا۔ مجموعی طور پر رحیم یار خان اور راجن پور کے کچہ کا 90 فیصد علاقہ تقریباً 10 سال بعد ڈاکوو ں سے پاک کر دیا گیا ہے۔ ڈی پی او رحیم یار خان عرفان علی سموں نے بتایا سرنڈر نہ کرنے والے ڈاکوو ں کے خلاف سرجیکل سٹرائیک جاری ہے۔ ڈرون کارروائی میں ڈاکو وں کا زیرزمین بنکر اور 33 ٹھکانے تباہ کئے گئے۔ ڈی پی او راجن پور کے مطابق انتہائی مطلوب 8 ڈاکو ہلاک کر دیئے گئے۔ حکام نے بتایا کچے کے نوگو علاقوں میں پولیس چیک پوسٹس قائم کی جا رہی ہیں۔ نوگو ایریاز کلیئر ہونے کے بعد وہاں سکول اور ہسپتال قائم کئے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈاکوو ں
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔