حکومت نے معیشت کو ڈیفالٹ سے نکال کر استحکام کی طرف گامزن کر دیا: وزیر منصوبہ بندی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا اور سیاسی عدم استحکام سے صرف دس روز قبل پاکستان عملی طور پر انٹرنل ڈیفالٹ کر چکا تھا۔اسلام آباد میں ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں احسن اقبال نے کہا کہ اگر چند ہفتے مزید گزر جاتے تو پاکستان ایکسٹرنل ڈیفالٹ کا بھی شکار ہو جاتا تاہم موجودہ حکومت نے بروقت اقدامات کر کے معیشت کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکال کر استحکام کی طرف گامزن کر دیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آج دنیا کے تمام بڑے مالیاتی اور عالمی ادارے پاکستان کی معاشی بحالی کا اعتراف کر رہے ہیں مگر افسوس کہ ملک کے اندر کچھ عناصر محض اپنی سیاست چمکانے کے لیے تنقید کر رہے ہیں۔ پاک فوج نے ہمیں معرکہ حق جیت کر دیا، اب قوم کو مل کر معرکہ ترقی جیتنا ہے، ملک کو سیاسی لانگ مارچ نہیں بلکہ اقتصادی لانگ مارچ کی ضرورت ہے۔ پریس کانفرنس سے قبل حکومت اور ایف پی سی سی آئی) کے درمیان اڑان پاکستان پروگرام کے تحت ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔