پشاور چھوڑ رہا ہوں: غلام احمد بلور نے انتخابی سیاست سے علیحدگی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
بزرگ سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر حاجی غلام احمد بلور نے 86 سال کی عمر میں انتخابی سیاست سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔
بلور ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ “اسٹیبلشمنٹ نے میری عمر کا بھی لحاظ نہیں کیا اور میری جیتی ہوئی سیٹ پر مجھے ہرایا گیا۔” انہوں نے واضح کیا کہ 55 سال کی سیاست کے باوجود انہیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ کسی کے سامنے جھکنے یا بکنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
اے این پی کے رہنما نے کہا، “ہمارے ملک نے بھارت کو جنگی میدان میں شکست دی، لیکن معاشی محاذ پر ہم پیچھے ہیں۔ حکمرانوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے مفاد میں سوچنا ہوگا۔”
بلور نے 18ویں ترمیم پر بھی بات کی اور کہا کہ کچھ لوگ اسے کم اہم سمجھتے ہیں، لیکن یہ ملک کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے۔ “اگر اسے چھیڑا گیا تو ملک کو نقصان ہوگا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی نشست پر کون الیکشن لڑے گا، یہ پارٹی کا فیصلہ ہے، اور وہ ایک مضبوط پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ “میں پشاور چھوڑ کر جا رہا ہوں، لیکن اسی مٹی میں دفن ہوں گا۔”
بلور نے واضح کیا کہ وہ انتخابی سیاست سے دستبردار ہو رہے ہیں، لیکن سیاست سے مکمل طور پر کنارہ نہیں کر رہے۔ “ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ اب پشاور میں اکیلا نہیں رہ سکتا، اس لیے اسلام آباد منتقل ہو رہا ہوں۔”
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔