پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مکمل اختیارات دے دیے تھے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا تھا کہ اب مذاکرات کا تمام اختیار عمران خان نے ان دونوں رہنماؤں کو دے دیا ہے اور جو بھی فیصلہ وہ کریں گے، پی ٹی آئی اسے قبول کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:عمر ایوب کا پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی میں شمولیت سے انکار، ’میری جگہ محمود اچکزئی کو شامل کریں‘

حکومت کی جانب سے بھی محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی اور مذاکرات کے مکمل اختیار دینے کے پی ٹی آئی کے فیصلے کو سراہا گیا اور مذاکرات آگے بڑھانے کی دعوت دی گئی تھی۔ تاہم اب تک مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کا حکومتی رہنماؤں کے ساتھ جو رابطہ تھا، وہ بھی ختم ہو چکا ہے۔

’ کوئی فائدہ نہیں ہوا‘

سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کا مکمل اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دینے کا فیصلہ کیا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پارٹی نے اس فیصلے سے جو امیدیں لگائی تھیں اور جو بہتری کی توقع تھی، وہ پوری نہیں ہوئی بلکہ پارٹی کے اندر اور باہر دونوں طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

عمران خان کے بغیر مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے

سینیئر تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق محمود خان اچکزئی کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کا اختیار دیا گیا، لیکن حقیقت میں کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ مذاکرات آگے بڑھائے۔ ماضی میں بھی کبھی کسی کو اختیار دیا گیا، لیکن عملی طور پر مذاکرات آگے بڑھانے کا اختیار کسی کے پاس نہیں تھا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے محاذ آرائی کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ محاذ آرائی اور سخت بیانات کا سلسلہ کم ہو تاکہ مذاکرات آگے بڑھ سکیں، لیکن فی الحال ایسا نظر نہیں آ رہا۔

اسٹیبلشمنٹ بھی یہی محسوس کر رہی ہے کہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں ہے، اس لیے کامیابی کی توقع کم ہے۔ بیرسٹر گوہر خان بھی ہر پریس کانفرنس میں واضح کرتے ہیں کہ عمران خان کے بغیر مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تحریک انصاف چاہتی ہے کہ مذاکرات عمران خان کی رہائی سے منسلک ہوں، لیکن ایسا فی الحال ممکن نہیں لگتا۔

پی ٹی آئی اس وقت تنہائی کا شکار ہے

سینیئر تجزیہ کار حماد حسن کے مطابق، روایتی طور پر اپوزیشن مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے میں واضح نقطہ نظر رکھتی تھی، لیکن پی ٹی آئی کا موقف ابھی تک غیر واضح ہے۔ کبھی وہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کی بات کرتے ہیں، تو ساتھ ہی اس کے خلاف سخت بیانات اور ٹویٹس بھی جاری کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع، سینیئر صحافی کا دعویٰ

حماد حسن کے مطابق پہلے اپوزیشن جماعتیں مذاکرات کے لیے ایک ساتھ ہوتی تھیں، جس سے حکومت پر دباؤ بڑھتا تھا، لیکن اس مرتبہ پی ٹی آئی کی اپنی جماعتیں بھی متحد نہیں ہیں اور انہیں بھی اندر سے تنقید کا سامنا ہے۔

حماد حسن کے مطابق پی ٹی آئی اس وقت تنہائی کا شکار ہے۔ پارٹی کے اندر شدید اختلافات ہیں، ریاست کے بیانیہ کے ساتھ کھڑی نہیں ہے اور دہشت گردی اور آپریشنز پر الگ الگ موقف رکھتی ہے۔ یہ وجوہات حکومت پر دباؤ پیدا کرنے میں رکاوٹ ہیں اور جب تک یہ دباؤ پیدا نہیں ہوتا، مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ابصار عالم احمد ولید اسٹیبلشمنٹ انصار عباسی پی ٹی آئی مذاکرات حماد حسن عمران خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ابصار عالم احمد ولید اسٹیبلشمنٹ پی ٹی ا ئی مذاکرات محمود خان اچکزئی مکمل اختیار مذاکرات آگے آگے بڑھانے مذاکرات کا پی ٹی آئی کے مطابق نہیں ہو کے ساتھ

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟