کیا پی ٹی آئی کے نامزد کردہ اپوزیشن لیڈرز مذاکرات میں کامیاب ہو سکے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مکمل اختیارات دے دیے تھے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا تھا کہ اب مذاکرات کا تمام اختیار عمران خان نے ان دونوں رہنماؤں کو دے دیا ہے اور جو بھی فیصلہ وہ کریں گے، پی ٹی آئی اسے قبول کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:عمر ایوب کا پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی میں شمولیت سے انکار، ’میری جگہ محمود اچکزئی کو شامل کریں‘
حکومت کی جانب سے بھی محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی اور مذاکرات کے مکمل اختیار دینے کے پی ٹی آئی کے فیصلے کو سراہا گیا اور مذاکرات آگے بڑھانے کی دعوت دی گئی تھی۔ تاہم اب تک مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کا حکومتی رہنماؤں کے ساتھ جو رابطہ تھا، وہ بھی ختم ہو چکا ہے۔
’ کوئی فائدہ نہیں ہوا‘سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کا مکمل اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دینے کا فیصلہ کیا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پارٹی نے اس فیصلے سے جو امیدیں لگائی تھیں اور جو بہتری کی توقع تھی، وہ پوری نہیں ہوئی بلکہ پارٹی کے اندر اور باہر دونوں طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
عمران خان کے بغیر مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتےسینیئر تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق محمود خان اچکزئی کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کا اختیار دیا گیا، لیکن حقیقت میں کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ مذاکرات آگے بڑھائے۔ ماضی میں بھی کبھی کسی کو اختیار دیا گیا، لیکن عملی طور پر مذاکرات آگے بڑھانے کا اختیار کسی کے پاس نہیں تھا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے محاذ آرائی کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ محاذ آرائی اور سخت بیانات کا سلسلہ کم ہو تاکہ مذاکرات آگے بڑھ سکیں، لیکن فی الحال ایسا نظر نہیں آ رہا۔
اسٹیبلشمنٹ بھی یہی محسوس کر رہی ہے کہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں ہے، اس لیے کامیابی کی توقع کم ہے۔ بیرسٹر گوہر خان بھی ہر پریس کانفرنس میں واضح کرتے ہیں کہ عمران خان کے بغیر مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تحریک انصاف چاہتی ہے کہ مذاکرات عمران خان کی رہائی سے منسلک ہوں، لیکن ایسا فی الحال ممکن نہیں لگتا۔
پی ٹی آئی اس وقت تنہائی کا شکار ہےسینیئر تجزیہ کار حماد حسن کے مطابق، روایتی طور پر اپوزیشن مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے میں واضح نقطہ نظر رکھتی تھی، لیکن پی ٹی آئی کا موقف ابھی تک غیر واضح ہے۔ کبھی وہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کی بات کرتے ہیں، تو ساتھ ہی اس کے خلاف سخت بیانات اور ٹویٹس بھی جاری کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع، سینیئر صحافی کا دعویٰ
حماد حسن کے مطابق پہلے اپوزیشن جماعتیں مذاکرات کے لیے ایک ساتھ ہوتی تھیں، جس سے حکومت پر دباؤ بڑھتا تھا، لیکن اس مرتبہ پی ٹی آئی کی اپنی جماعتیں بھی متحد نہیں ہیں اور انہیں بھی اندر سے تنقید کا سامنا ہے۔
حماد حسن کے مطابق پی ٹی آئی اس وقت تنہائی کا شکار ہے۔ پارٹی کے اندر شدید اختلافات ہیں، ریاست کے بیانیہ کے ساتھ کھڑی نہیں ہے اور دہشت گردی اور آپریشنز پر الگ الگ موقف رکھتی ہے۔ یہ وجوہات حکومت پر دباؤ پیدا کرنے میں رکاوٹ ہیں اور جب تک یہ دباؤ پیدا نہیں ہوتا، مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ابصار عالم احمد ولید اسٹیبلشمنٹ انصار عباسی پی ٹی آئی مذاکرات حماد حسن عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ابصار عالم احمد ولید اسٹیبلشمنٹ پی ٹی ا ئی مذاکرات محمود خان اچکزئی مکمل اختیار مذاکرات آگے آگے بڑھانے مذاکرات کا پی ٹی آئی کے مطابق نہیں ہو کے ساتھ
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ