Islam Times:
2026-06-02@23:59:56 GMT

مغربی عالمی نظام کی آخری سانسیں

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

مغربی عالمی نظام کی آخری سانسیں

اسلام ٹائمز: مارک کارنی نے اپنی تقریر کے آخری حصے میں کہا: "جب قوانین مزید آپ کی حفاظت نہیں کرتے تو آپ کو چاہیے کہ اپنی حفاظت آپ خود کریں"۔ یہ جملہ بہت ہی مختصر انداز میں اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی مرکزیت میں لبرل نظام پر اعتماد چکناچور ہو چکا ہے۔ درحقیقت مارک کارنی کے الفاظ کو یورپی اور ایشیائی رہنماوں اور حتی کچھ امریکی سیاست دانوں کے ملتے جلتے موقف کے ساتھ دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ ان رہنماوں نے بھی اپنے بیانات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ: دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جس میں امریکہ پر اندھا بھروسہ نہ صرف سلامتی کا ضامن نہیں بلکہ الٹا خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ کینیڈا کا اعتراف شاید دیر سے سامنے آیا ہے لیکن اس واضح پیغام کا حامل ہے: امریکہ پر اسٹریٹجک انحصار کا دور ختم ہو رہا ہے، چاہے اس سے آزاد ہونے کی قیمت بھاری اور خطرات کے ہمراہ ہی کیوں نہ ہو۔ تحریر: حنیف غفاری
 
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی ڈیووس سمٹ میں تقریر کو وقت کے تقاضوں کے مطابق محض ایک موقف یا سفارتی انتباہ کی حد تک دیکھنے کی بجائے ایک زیادہ وسیع پس منظر میں دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ ان کی تقریر درحقیقت مغربی حلقوں کے اندر سے اس حقیقت کا واضح اعتراف ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا پر حکمفرما ہونے والے بین الاقوامی نظام کا ایک بنیادی ترین ستون منہدم ہو گیا ہے۔ وہ ستون اس تصور پر مبنی ہے کہ امریکی قیادت کی چھتری تلے آ جانا خود بخود سلامتی، خوشحالی اور استحکام کی ضمانت فراہم کر دیتا ہے۔ جب کینیڈا جیسے ملک کا وزیر اعظم جو کہ امریکہ کا سب سے قریبی جیو پولیٹیکل، اقتصادی اور سیکورٹی اتحادی ہے، اس طرح کا واضح اندازہ لگاتا ہے تو اسے موجودہ پیراڈائم میں ایک اہم اور بنیادی تبدیلی کی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
 
مارک کارنی نے اپنے موقف کا اظہار ایسے لہجے میں کیا جسے کچھ مغربی ذرائع ابلاغ نے "اشتعال انگیز" قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس لہجے میں انتہائی مؤثر طریقے سے اس حقیقت کا اعلان کیا ہے کہ دیگر امریکی قیادت میں وضع ہونے والے قوانین پر مبنی ورلڈ آرڈر اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے براہ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر واضح طور پر "امریکی اثرورسوخ" اور بڑی طاقتوں کی جانب سے "معاشی انضمام کو بطور ہتھیار" استعمال کرنے کی بات کی۔ یہ بیان اس حقیقت کا کھلا اعتراف ہے جس کا کئی ممالک برسوں سے تجربہ کر رہے ہیں: عالم گیریت، آزاد تجارت اور سپلائی چین، تعاون کے اوزار نہیں بلکہ سیاسی جبر اور دباؤ کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔ مارک کارنی کی تقریر کا مرکزی نقطہ نظر کینیڈا کی خارجہ پالیسی میں ایک تاریخی مفروضے کی تنقید پر مبنی ہے۔
 
وہ مفروضہ یہ عقیدہ ہے کہ صرف "جغرافیہ اور اتحاد میں رکنیت" بذات خود سلامتی اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ انہوہ نے دو ٹوک اعلان کیا کہ یہ مفروضہ اب درست نہیں رہا۔ یہ بات نہ صرف کینیڈا پر لاگو ہوتی ہے بلکہ یورپ سے مشرقی ایشیا تک امریکہ کے تمام اتحادیوں پر بھی صادق آتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے عائد کیے جانے والے تعزیری ٹیکسز، شروع کی جانے والی تجارتی جنگیں، سیاسی دباؤ اور حتی سیکورٹی خطرات کے تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ سے اتحاد اب سیکورٹی کا باعث نہیں بنتا بلکہ بعض اوقات غیر یقینی صورتحال کا باعث بن جاتا ہے۔ کارنی کی نظر میں اس مسئلے کا واحد حل "اصولوں کی پابندی اور عمل پر زور دینا" ہے۔ ان دونوں کا امتزاج ان کی نظر میں واحد راہ حل ہے۔
 
ایک ایسا تصور جس کا عملی طور پر مطلب اپنی جانب پلٹنا، اپنی طاقت مضبوط کرنا، اور غیر ملکی تعلقات کو متنوع بنانا ہے۔ انہوں نے امریکہ پر انحصار کم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ یہ تاکید دراصل کینیڈا کے وزیر اعظم کا ایک بے مثال اعتراف ہے، ایک ایسا ملک جس نے کئی دہائیوں سے اپنی معیشت، سلامتی اور خارجہ پالیسی کو واشنگٹن سے ایک اٹوٹ بندھن پر استوار کیا تھا۔ ان کا کلیدی جملہ، کہ "انضمام ماتحتی اور فرمانبرداری کا باعث بن سکتا ہے"، امریکہ کی معاشی بالادستی کے دور میں بہت سے ممالک کے لیے ایک تلخ تجربہ ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے کثیرالجہتی کے سنگین زوال کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، ایک ایسا زوال جس میں مغرب خود ایک اہم عنصر رہا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کو کمزور کر دیا گیا، اقوام متحدہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور COP جیسے میکانزم کا ناکارہ بنایا گیا ہے۔
 
یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ "اجتماعی مسائل کے حل کا فن" اب اس طرح کام نہیں کر رہا جیسا پہلے ہوا کرتا تھا۔ ایسے حالات میں، ممالک پہلے سے کہیں زیادہ تنہا کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسی صورتحال جس کا مطلب طاقت، اپنی مدد آپ اور سخت مقابلے کی منطق کی جانب واپسی ہے۔ مارک کارنی نے بہت ہی واضح اور دو ٹوک نتیجہ اخذ کیا ہے: اسٹریٹجک خودمختاری اب پرتعیش انتخاب نہیں رہا بلکہ بقا کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنی غذائی ضروریات خود پوری نہیں کر سکتا، اپنی توانائی خود پیدا نہیں کر سکتا، اپنی اہم معدنیات کو کنٹرول نہیں کر سکتا ہے یا مؤثر طریقے سے اپنا دفاع نہیں کر سکتا تو عملی طور پر اس کے سامنے کوئی آپشن نہیں ہے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل قریب میں رونما ہونے والے حالات میں ایسے ملک کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہو گی۔
 
مارک کارنی نے اپنی تقریر کے آخری حصے میں کہا: "جب قوانین مزید آپ کی حفاظت نہیں کرتے تو آپ کو چاہیے کہ اپنی حفاظت آپ خود کریں"۔ یہ جملہ بہت ہی مختصر انداز میں اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی مرکزیت میں لبرل نظام پر اعتماد چکناچور ہو چکا ہے۔ درحقیقت مارک کارنی کے الفاظ کو یورپی اور ایشیائی رہنماوں اور حتی کچھ امریکی سیاست دانوں کے ملتے جلتے موقف کے ساتھ دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ ان رہنماوں نے بھی اپنے بیانات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ: دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جس میں امریکہ پر اندھا بھروسہ نہ صرف سلامتی کا ضامن نہیں بلکہ الٹا خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ کینیڈا کا اعتراف شاید دیر سے سامنے آیا ہے لیکن اس واضح پیغام کا حامل ہے: امریکہ پر اسٹریٹجک انحصار کا دور ختم ہو رہا ہے، چاہے اس سے آزاد ہونے کی قیمت بھاری اور خطرات کے ہمراہ ہی کیوں نہ ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مارک کارنی نے نہیں کر سکتا کینیڈا کے امریکہ پر امریکہ کی کہ امریکہ ایک ایسا کرتا ہے سکتا ہے چکا ہے رہا ہے دیا ہے

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی