مغربی عالمی نظام کی آخری سانسیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: مارک کارنی نے اپنی تقریر کے آخری حصے میں کہا: "جب قوانین مزید آپ کی حفاظت نہیں کرتے تو آپ کو چاہیے کہ اپنی حفاظت آپ خود کریں"۔ یہ جملہ بہت ہی مختصر انداز میں اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی مرکزیت میں لبرل نظام پر اعتماد چکناچور ہو چکا ہے۔ درحقیقت مارک کارنی کے الفاظ کو یورپی اور ایشیائی رہنماوں اور حتی کچھ امریکی سیاست دانوں کے ملتے جلتے موقف کے ساتھ دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ ان رہنماوں نے بھی اپنے بیانات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ: دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جس میں امریکہ پر اندھا بھروسہ نہ صرف سلامتی کا ضامن نہیں بلکہ الٹا خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ کینیڈا کا اعتراف شاید دیر سے سامنے آیا ہے لیکن اس واضح پیغام کا حامل ہے: امریکہ پر اسٹریٹجک انحصار کا دور ختم ہو رہا ہے، چاہے اس سے آزاد ہونے کی قیمت بھاری اور خطرات کے ہمراہ ہی کیوں نہ ہو۔ تحریر: حنیف غفاری
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی ڈیووس سمٹ میں تقریر کو وقت کے تقاضوں کے مطابق محض ایک موقف یا سفارتی انتباہ کی حد تک دیکھنے کی بجائے ایک زیادہ وسیع پس منظر میں دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ ان کی تقریر درحقیقت مغربی حلقوں کے اندر سے اس حقیقت کا واضح اعتراف ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا پر حکمفرما ہونے والے بین الاقوامی نظام کا ایک بنیادی ترین ستون منہدم ہو گیا ہے۔ وہ ستون اس تصور پر مبنی ہے کہ امریکی قیادت کی چھتری تلے آ جانا خود بخود سلامتی، خوشحالی اور استحکام کی ضمانت فراہم کر دیتا ہے۔ جب کینیڈا جیسے ملک کا وزیر اعظم جو کہ امریکہ کا سب سے قریبی جیو پولیٹیکل، اقتصادی اور سیکورٹی اتحادی ہے، اس طرح کا واضح اندازہ لگاتا ہے تو اسے موجودہ پیراڈائم میں ایک اہم اور بنیادی تبدیلی کی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
مارک کارنی نے اپنے موقف کا اظہار ایسے لہجے میں کیا جسے کچھ مغربی ذرائع ابلاغ نے "اشتعال انگیز" قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس لہجے میں انتہائی مؤثر طریقے سے اس حقیقت کا اعلان کیا ہے کہ دیگر امریکی قیادت میں وضع ہونے والے قوانین پر مبنی ورلڈ آرڈر اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے براہ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر واضح طور پر "امریکی اثرورسوخ" اور بڑی طاقتوں کی جانب سے "معاشی انضمام کو بطور ہتھیار" استعمال کرنے کی بات کی۔ یہ بیان اس حقیقت کا کھلا اعتراف ہے جس کا کئی ممالک برسوں سے تجربہ کر رہے ہیں: عالم گیریت، آزاد تجارت اور سپلائی چین، تعاون کے اوزار نہیں بلکہ سیاسی جبر اور دباؤ کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔ مارک کارنی کی تقریر کا مرکزی نقطہ نظر کینیڈا کی خارجہ پالیسی میں ایک تاریخی مفروضے کی تنقید پر مبنی ہے۔
وہ مفروضہ یہ عقیدہ ہے کہ صرف "جغرافیہ اور اتحاد میں رکنیت" بذات خود سلامتی اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ انہوہ نے دو ٹوک اعلان کیا کہ یہ مفروضہ اب درست نہیں رہا۔ یہ بات نہ صرف کینیڈا پر لاگو ہوتی ہے بلکہ یورپ سے مشرقی ایشیا تک امریکہ کے تمام اتحادیوں پر بھی صادق آتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے عائد کیے جانے والے تعزیری ٹیکسز، شروع کی جانے والی تجارتی جنگیں، سیاسی دباؤ اور حتی سیکورٹی خطرات کے تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ سے اتحاد اب سیکورٹی کا باعث نہیں بنتا بلکہ بعض اوقات غیر یقینی صورتحال کا باعث بن جاتا ہے۔ کارنی کی نظر میں اس مسئلے کا واحد حل "اصولوں کی پابندی اور عمل پر زور دینا" ہے۔ ان دونوں کا امتزاج ان کی نظر میں واحد راہ حل ہے۔
ایک ایسا تصور جس کا عملی طور پر مطلب اپنی جانب پلٹنا، اپنی طاقت مضبوط کرنا، اور غیر ملکی تعلقات کو متنوع بنانا ہے۔ انہوں نے امریکہ پر انحصار کم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ یہ تاکید دراصل کینیڈا کے وزیر اعظم کا ایک بے مثال اعتراف ہے، ایک ایسا ملک جس نے کئی دہائیوں سے اپنی معیشت، سلامتی اور خارجہ پالیسی کو واشنگٹن سے ایک اٹوٹ بندھن پر استوار کیا تھا۔ ان کا کلیدی جملہ، کہ "انضمام ماتحتی اور فرمانبرداری کا باعث بن سکتا ہے"، امریکہ کی معاشی بالادستی کے دور میں بہت سے ممالک کے لیے ایک تلخ تجربہ ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے کثیرالجہتی کے سنگین زوال کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، ایک ایسا زوال جس میں مغرب خود ایک اہم عنصر رہا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کو کمزور کر دیا گیا، اقوام متحدہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور COP جیسے میکانزم کا ناکارہ بنایا گیا ہے۔
یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ "اجتماعی مسائل کے حل کا فن" اب اس طرح کام نہیں کر رہا جیسا پہلے ہوا کرتا تھا۔ ایسے حالات میں، ممالک پہلے سے کہیں زیادہ تنہا کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسی صورتحال جس کا مطلب طاقت، اپنی مدد آپ اور سخت مقابلے کی منطق کی جانب واپسی ہے۔ مارک کارنی نے بہت ہی واضح اور دو ٹوک نتیجہ اخذ کیا ہے: اسٹریٹجک خودمختاری اب پرتعیش انتخاب نہیں رہا بلکہ بقا کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنی غذائی ضروریات خود پوری نہیں کر سکتا، اپنی توانائی خود پیدا نہیں کر سکتا، اپنی اہم معدنیات کو کنٹرول نہیں کر سکتا ہے یا مؤثر طریقے سے اپنا دفاع نہیں کر سکتا تو عملی طور پر اس کے سامنے کوئی آپشن نہیں ہے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل قریب میں رونما ہونے والے حالات میں ایسے ملک کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہو گی۔
مارک کارنی نے اپنی تقریر کے آخری حصے میں کہا: "جب قوانین مزید آپ کی حفاظت نہیں کرتے تو آپ کو چاہیے کہ اپنی حفاظت آپ خود کریں"۔ یہ جملہ بہت ہی مختصر انداز میں اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی مرکزیت میں لبرل نظام پر اعتماد چکناچور ہو چکا ہے۔ درحقیقت مارک کارنی کے الفاظ کو یورپی اور ایشیائی رہنماوں اور حتی کچھ امریکی سیاست دانوں کے ملتے جلتے موقف کے ساتھ دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ ان رہنماوں نے بھی اپنے بیانات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ: دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جس میں امریکہ پر اندھا بھروسہ نہ صرف سلامتی کا ضامن نہیں بلکہ الٹا خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ کینیڈا کا اعتراف شاید دیر سے سامنے آیا ہے لیکن اس واضح پیغام کا حامل ہے: امریکہ پر اسٹریٹجک انحصار کا دور ختم ہو رہا ہے، چاہے اس سے آزاد ہونے کی قیمت بھاری اور خطرات کے ہمراہ ہی کیوں نہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مارک کارنی نے نہیں کر سکتا کینیڈا کے امریکہ پر امریکہ کی کہ امریکہ ایک ایسا کرتا ہے سکتا ہے چکا ہے رہا ہے دیا ہے
پڑھیں:
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیےیہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔
(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔
نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثریہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔
نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعملامریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔
برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔
جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔
دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملیدریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔
امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔
ادارت: مقبول ملک