data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میٹا کی زیر ملکیت دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے صارفین کی پرائیویسی اور ڈیجیٹل سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جسے کمپنی نے ’اسٹرکٹ اکاؤنٹ سیٹنگز‘ کا نام دیا ہے۔

ٹیکنالوجی سے متعلق معتبر ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ فیچر خصوصی طور پر اُن صارفین کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو سائبر اٹیکس، اسپائی وئیر یا دیگر ڈیجیٹل خطرات کے زیادہ حساس ہیں، جیسے صحافی، عوامی شخصیات اور آن لائن انفلوئنسرز۔

ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق نئے فیچر کے تحت صارف کے اکاؤنٹ پر خودکار طور پر سخت ترین پرائیویسی کنٹرولز نافذ ہو جائیں گے، اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد نامعلوم کانٹیکٹس کی جانب سے بھیجی جانے والی اٹیچمنٹس اور میڈیا فائلز کو بلاک کر دیا جائے گا، جس سے ممکنہ نقصان دہ مواد کے خطرات کافی حد تک کم ہو جائیں گے۔

واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ یہ فیچر صارف کے اکاؤنٹ کو لاک ڈاؤن موڈ میں منتقل کر دیتا ہے اور مخصوص فنکشنز کو محدود کر کے اکاؤنٹ کو محفوظ بناتا ہے۔ صارفین اسے ایپ کی سیٹنگز میں جا کر پرائیویسی اور ایڈوانسڈ آپشنز کے تحت فعال کر سکتے ہیں۔

کمپنی کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ اس فیچر کا عمل درآمد مرحلہ وار ہوگا اور آنے والے ہفتوں میں تمام صارفین کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔

اسی دوران، واٹس ایپ نے اپنی ایپلیکیشن کے سکیورٹی انفراسٹرکچر میں بھی قابلِ ذکر بہتری کی ہے، کمپنی نے ایپ کے اندر موجود سی پلس پلس کوڈ کی ایک لاکھ 60 ہزار لائنوں کو رسٹ پروگرامنگ لینگویج کے تقریباً 90 ہزار لائنوں سے تبدیل کیا ہے، جس سے سسٹم کی کارکردگی بہتر ہوئی اور میموری یوز ایج کا رن ٹائم کم ہو گیا۔

رسٹ پروگرامنگ لینگویج کو اس لیے اپنایا گیا ہے کہ یہ میموری سیف لینگویج ہے اور سی پلس پلس میڈیا لائبریریز کے ساتھ استعمال ہو کر تصاویر، ویڈیوز اور میسجز کو زیادہ محفوظ طریقے سے ہینڈل کر سکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ اقدام صارفین کے لیے ایک زیادہ محفوظ اور مستحکم تجربہ فراہم کرے گا، جبکہ ڈیجیٹل مواد کی حفاظت کے لیے معیاری حفاظتی اقدامات کو بھی فروغ ملے گا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صارفین کے لیے واٹس ایپ

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ