ملاقات کی پیشکش نہیں ہوئی، بانی کو ہسپتال کیوں لایا گیا بتایا نہیں جا رہا: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ہماری آخری ملاقات 20 دسمبر کو ہوئی تھی اس کے بعد آج تک ہمیں ملاقات کرنے کے لیے نہیں کہا گیا۔ انہوں نے ایکس پر ایک بیان میں عمران خان سے ملاقات کی پیشکش سے متعلق چلنے والی خبروں کی تردید کر دی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا ہم نے پٹیشن بھی دائر کی لیکن ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، مطالبہ کرتے ہیں کہ آج نہیں تو کل ملاقات کروائی جائے۔ انہوں نے کہا ایک خبر آئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال لایا گیا اور پھر جیل لے گئے۔ پارٹی اور فیملی میں شدید تشویش پائی جارہی ہے، یہ نہیں بتایا جا رہا کہ کس بیماری کی وجہ سے لایا گیا، اس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں ہر منگل کو اڈیالہ جیل جاتا ہوں، اڈیالا اس وقت تک موجود رہتا ہوں جب تک پولیس مجھے آگے جانے سے نہ روک دے، میں ملاقات کا وقت ختم ہونے پر واپس آجاتا ہوں، میں نے گزشتہ روز بھی یہی طریقہ اختیارکیا۔ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، ویلاگرز، یوٹیوبرز اور مین سٹریم میڈیا سے گزارش ہے کہ بانی سے متعلق ملاقاتوں کے بارے میں کوئی بھی خبر سیکرٹری اطلاعات سے تصدیق کے بعد ہی نشر یا شائع کی جائے، مجھے نہ حکومت اور نہ جیل حکام کی طرف سے بانی سے ملاقات کی پیشکش کی گئی، اس لیے کسی کے ساتھ جانے یا نہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ملاقات کی پی ٹی آئی نے کہا
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔