سانحہ گل پلازہ ،خوفناک آگ کو بچے سے جوڑ کر سندھ حکومت و قابض میئر اپنی جان نہیں چھڑا سکتے ،منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے امیر ضلع وسطی وجیہ حسن اور دیگررہنمائوں کے ہمراہ جماعت اسلامی کے تحت یکم فروری کو 3بجے دن شارع فیصل پر ہونے والے عظیم الشان اور تاریخی ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ کے سلسلے میں حیدری مارکیٹ پر قائم کیمپ کا دورہ کیا ، تاجروںو دکانداروں سے ملاقات کی اور ان کو مارچ میں شرکت کی دعوت دی ، تاجروں نے ’’جینے دو کراچی مارچ ‘‘ کی مکمل حمایت و تائید کرتے ہوئے مکمل تعاون اور شرکت کی یقین دہانی کرائی ، اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ گل پلاز ہ میں خوفناک آتشزدگی اور 80سے زاید انسانی جانوں ، املاک اور مال کے ضیاع کو ایک بچے سے جوڑ کر سندھ حکومت ، قابض میئر اپنی ذمے داری سے جان نہیں چھڑا سکتے ، کمشنر کراچی کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی فراڈ ہے ، خود اس کے ذمے دار اور جوابدہ ہیں، جماعت اسلامی کا پہلے دن سے مطالبہ ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ،4 دن تک آگ لگی رہی، حکومتی ادارے انتظار کرتے رہے کہ خود بجھ جائے،سندھ حکومت، میئر کراچی اور اداروں کی نااہلی سب کے سامنے ہے،کراچی کو لاوارث شہر بنا دیا گیا ہے ،جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گی،کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑتی رہے گی ، جماعت اسلامی یکم فروری کو شارع فیصل پر’’جینے دو کراچی کو‘‘ کے عنوان سے عظیم الشان مارچ منعقد کرے گی اہل کراچی کے مسائل و مشکلات سے وفاق کو دلچسپی ہے اور نہ صوبائی حکومت کو، دونوں صرف کراچی سے وسائل لوٹنے میں مصروف ہیں۔ گزشتہ 17 برس سے پیپلز پارٹی سندھ پر قابض ہے اور تقریباً ہر دور میں ایم کیو ایم اس کی شریک اقتدار رہی ہے۔ شہر پر مسلط فارم 13والوںاور فارم47والوں کو عوام کے مسائل و مشکلات سے کوئی سرو کار نہیں، منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ عوام کو بتایا جائے کہ سانحہ گل پلازہ میں 1122، این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کہاں تھیں؟ریسکیو یہ نہیں کہ آگ خود بجھ جائے اور آپ کامیابی کا اعلان کر دیں،آج بھی 10 سے 11 خاندان اپنے پیاروں کی باقیات کے منتظر ہیں،ریسکیو وہ ہوتا ہے جب متاثرہ جگہوں پر بروقت گاڑیاں پہنچیں، گاڑیوں میں پانی اور ڈیزل بھی موجود ہو،فائر ٹینڈر میں کبھی پانی نہیں تھا، کبھی ڈیزل نہیں، یہ کیسا ریسکیو نظام ہے؟،واٹر ٹینکر ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچا، یہ مجرمانہ غفلت ہے، ساڑے 3 کروڑ کے شہر میں صرف 42 فائر ٹینڈر کا ہونا لمحہ فکر ہے،سندھ حکومت ، قابض میئر اور متعلقہ اداروں کو اب جواب دینا ہوگا کہ یہ سنگین صورتحال اور تباہی کیوں رونما ہوئی ،انہوں نے کہا کہ کراچی کو پورے ملک کو چلاتا ہے ، قومی خزانے میں 67فیصد ریونیو اور صوبے کے بجٹ کا 95فیصد حصہ فراہم کرتا ہے ، ملک کی 54فیصد ایکسپورٹ کراچی سے ہوتی ہے لیکن آدھا شہر پانی سے محروم ہے ، کراچی کے عوام کی قسمت میں گٹروں میں گرنا، بارشوں میں بہہ جانا اور ہیوی ٹریفک کے نیچے کچلے جانا رہ گیا ہے۔ کھنڈر بنی سڑکیں شہریوں کی ہڈیاں توڑ رہی ہیں، منصوبے مکمل نہیں ہو رہے، دھول اور مٹی سے مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں، کے فور منصوبہ جو 2005 میں شروع ہوا تھا، آج 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکا۔ کے سی آر، گرین لائن اور ریڈ لائن منصوبے بھی تاخیر کا شکار ہیں۔ ریڈ لائن منصوبہ جسے 2024 میں مکمل ہونا تھا، آج بھی نامکمل ہے اور 79 ارب کا منصوبہ 300 ارب تک جا پہنچا ہے۔ یہ منصوبے اہلِ کراچی کے لیے سہولت کے بجائے تباہی کا سبب بنے ہیں،اس موقع پر ٹائون چیئر مین نارتھ ناظم آباد عاطف علی خان ، وائس چیئر مین ضیا الدین جامعی ، حیدری مارکیٹ کے صدر سید فراز و دیگر تاجر رہنما اور جماعت اسلامی کے ذمے داران بھی موجود تھے ۔قبل ازیں منعم ظفر خان کی حیدری مارکیٹ آمد پر تاجر رہنمائوں نے ان کا استقبال کیا ۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان یکم فروری کو شارع فیصل پر ہونے والے ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ کے سلسلے میں حیدری مارکیٹ پر کیمپ کے شرکا سے خطاب، دکانداروں کو مارچ میں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جینے دو کراچی جماعت اسلامی حیدری مارکیٹ سندھ حکومت کراچی کے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔