پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید بہتر بنانے کےلئے تجارتی تعاون پر تیار: روسی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سیالکوٹ (نامہ نگار) پاکستان میں روسی فیڈریشن کے سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ روس پاکستان کے ساتھ پرانے، خوشگوار اور تاریخی دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کےلئے تجارتی تعاون بڑھانے کےلئے تیار ہے۔ یہ بات انہوں نے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری"پاکستان روس اکنامک ڈائیلاگ اینڈ انڈسٹریل ایکسپوژر" میں مقامی تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ البرٹ پی خوریف نے کہا کہ 1960 کی دہائی میں سابق سوویت یونین نے پاکستان کے ساتھ تیل اور گیس کے شعبوں میں تعاون اور پاکستان سٹیل مل کے قیام میں بھی پاکستان کی مدد کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات گزشتہ دس پندرہ سالوں میں بہتر ہو رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ترقی اور بہتری کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس فارمیسیوٹیکل، سرجیکل ٹولز اور دیگر کئی شعبوں کی تجارت میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہموار تجارتی سرگرمیوں کو یقینی بنانے کےلئے موجودہ رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زبان ایک اہم رکاوٹ ہے اور روسی زبان سکھانے کےلئے لاہور، اوکاڑہ، فیصل آباد اور پشاور میں ایسے ادارے قائم کئے جائیں گے جو اسلام آباد میں پہلے سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی کاروباری برادری کو جولائی 2026 میں روس میں ہونے والے بین الاقوامی اقتصادی فورم میں شرکت کی دعوت دی۔ چیمبر کے صدر سید احتشام مظہر گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت کا موجودہ حجم 250 ملین امریکی ڈالر سے زائد ہے جو بہت زیادہ صلاحیت کے باوجود انتہائی معمولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کو بہتر بنانے کےلئے تجارتی وفود کے جارحانہ تبادلے بالخصوص کلسٹر بیڈ وفود کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سیالکوٹ کے صنعتکاروں اور برآمد کنندگان کےلئے روسی منڈیوں تک رسائی میں آسانی پیدا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈینس نیوزوروف اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر چیمبرکے سینئر نائب صدر میاں مراد ارشد، نائب صدر سلمان مجید شیخ اور جنرل سیکرٹری طارق محمود دیگر بھی موجود تھے۔قبل ازیں روسی سفیر البرٹ پی خوریف کی سیالکوٹ آمد پر چیئرمین سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ حسن علی بھٹی، وائس چیئرمین سیال وقاص افضل،سیال بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سیال ائر وائس مارشل(ر) تنویر اشرف بھٹی معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔
روسی سفیر
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ بنانے کےلئے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔