بھارت اور یورپین یونین کے درمیان وسیع تجارتی معاہدہ پاکستان کیلے تشویشناک ہے، عاطف اکرام شیخ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
بھارت اور یورپین یونین کے درمیان وسیع تجارتی معاہدہ پاکستان کیلے تشویشناک ہے، عاطف اکرام شیخ WhatsAppFacebookTwitter 0 29 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: بھارت اور یورپی یونین کے درمیان وسیع تجارتی معاہدے پر صدر ایف پی سی سی آئی، عاطف اکرام شیخ نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عاطف شیخ نے کہا کہ یہ معاہدہ خاص طور پر پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے اور پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں میں شدید مقابلے کا سامنا ہوگا۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہا کہ بھارت اور یورپین یونین کے اس معاہدے سے پاکستان کے لیے موجودہ جی ایس پلس سٹیٹس کا اثر کمزور ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی برآمدات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ بزنس کمیونٹی کے ساتھ مل کر قبل از وقت اقدامات کرے تاکہ برآمدات کو بچایا جا سکے۔
عاطف شیخ نے زور دیا کہ پاکستان کو بھی یورپی ممالک کے ساتھ اسی طرز کے وسیع پیمانے پر مذاکرات فوری طور پر شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کو وسعت دینے، موجودہ حجم کو برقرار رکھنے اور نئی منڈیوں کی تلاش کے لیے موثر بات چیت ضروری ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ڈسٹرکٹ اکانومی کے منصوبے سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمداتی شعبے میں تنوع لائے تاکہ پاکستان کی برآمداتی معیشت مستحکم اور مضبوط ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعالمی استحکام فورس میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا، بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدےسےجوڑناغلط ہے، پاکستان قائم مقام چیئرمین سینیٹ کی آر آئی یو جے کے نومنتخب اراکین کے لیے نیک خواہشات فیض حمید کے بھائی کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری شروع کھیلوں میں جدت اور نوجوانوں کی شمولیت کے لیے امریکی اسنوبورڈ ماہر کی پاکستان آمد نیٹ میٹرنگ سولر صارفین کے یونٹس غائب، لاکھوں کے اضافی بل موصول ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے: عباس عراقچی پاکستان میں نیپا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کا خدشہ، الرٹ جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔