لاہور: سیوریج لائن میں گرنے کے واقعے سے قبل کی ماں بیٹی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور میں گزشتہ روز داتا دربار کے قریب سیوریج لائن میں ماں بیٹی کے گرنے کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی۔
خاتون کی گرنے سے قبل سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون بچی کے ہمہراہ داتا دربار سے نکل رہی ہے۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرہ خاتون، بچی اور شوہر کو6:47 پر داتا دربار کے قریب شاپنگ کرتے دیکھاگیا اور تینوں رات 7:22 پر داتا دربار کے سامنے پہنچے۔
رپورٹ کے مطابق 7:30 پر تینوں داتا دربار سے پرانی پرندہ مارکیٹ کی جانب جاتے دکھائی دیے اور پھر 7:32 پر ریسکیو 1122 کو خاتون اور بچی کے گرنے کی کال آئی جس کے بعد ریسکیو اہلکار 4 منٹ میں پہنچ گئے۔
ابتدائی رپورٹ میں بتایاگیا ہےکہ خاتون کی ساس کو وہاں شور مچا کر لوگوں کو بلاتے ہوئے دیکھا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: داتا دربار
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔