لاہور: سیوریج لائن میں گرنے والی 10 ماہ کی بچی کی لاش مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسکرین گریب
لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں سیوریج لائن میں گرنے والی 10 ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش مل گئی۔
ریسکیو 1122 کے مطابق 10 ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش آؤٹ فال روڈ کی سیوریج لائن سے ملی ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق ریسکیو آپریشن 3 مختلف مقامات پر کیا گیا، آؤٹ فال روڈ، بھاٹی گیٹ اور موہنی روڈ پر ریسکیو آپریشن کیا گیا۔
ریسکیو کی 10 گاڑیاں اور 25 ریسکیورز آپریشن میں حصہ لیا۔
لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے مل گئی جبکہ بچی کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب غفلت اور کوتاہی برتنے پر ٹریفک انجینئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 3 افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے مل چکی ہے۔
متاثرہ فیملی شورکوٹ سے سیر کرنے لاہور آئی تھی، مینار پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچی تھی اس دوران خاتون بچی سمیت سیوریج لائن کی منڈھیر پر بیٹھی جہاں سے دونوں نیچے گر گئی تھیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے جو 24 گھنٹوں میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیوریج لائن میں گرنے والی کی لاش
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔