حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازا کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ عدالتی تحقیقات کےلیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی کے گل پلازا کے معاملے میں ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور ہائیڈرنٹ انچار کے ڈبلیو ایس بی کو معطل کردیا گیا ہے۔ 

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے وقت دو سے ڈھائی ہزار افراد موجود تھے، آگ لگتے ہی کافی لوگ نکل گئے، کافی لوگوں کو ریسکیو اور سرکاری اداروں کے اہلکاروں نے نکالا۔

انہوں نے بتایا کہ سانحہ گل پلازا کے بعد ڈائریکٹر سول ڈیفنس ضلع جنوبی کو معطل کردیا ہے، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ہائیڈرنٹ انچارج کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ سول ڈیفنس نے گل پلازا کے 2023 سے کئی دورے کیے اور دو نوٹسز دیے گئے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، آگ بجھانے کے عمل کے دوران پانی کی کمی کا سامنا رہا۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ گل پلازا میں فائر فائٹنگ سسٹم اور دیگر انتظامات نہیں تھے، جب انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا تو ان کی بھی ذمہ داری تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ گل پلازا

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟