سانحہ گل پلازہ: حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کا اعلان، 2 افسران معطل
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: کمشنر کراچی کی حتمی رپورٹ مکمل، 79 اموات کی تصدیق
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ عدالتی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو باقاعدہ خط لکھا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے اسباب اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے معاملے پر ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) کے ہائیڈرنٹ انچارج کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق آگ لگنے کے وقت گل پلازہ میں 2 سے ڈھائی ہزار افراد موجود تھے تاہم آگ بھڑکتے ہی بڑی تعداد میں لوگ عمارت سے باہر نکل آئے جبکہ باقی افراد کو ریسکیو ٹیموں اور سرکاری اداروں کے اہلکاروں نے بحفاظت نکالا۔
مزید پڑھیے: کراچی کی ٹرام سروس سے گل پلازہ تک، کب کیا ہوا؟
سینیئر وزیر نے بتایا کہ سانحے کے بعد ضلع جنوبی کے ڈائریکٹر سول ڈیفنس کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ کے ڈبلیو ایس بی کے ہائیڈرنٹ انچارج کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ سول ڈیفنس نے 2023 سے گل پلازا کے متعدد معائنے کیے تھے اور اس دوران 2 نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے۔
شرجیل میمن نے اعتراف کیا کہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی اور فائر فائٹنگ کے دوران پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ سانحہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا اعلان
ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں فائر فائٹنگ سسٹم اور دیگر حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے اور جب اس حوالے سے انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا تھا تو متعلقہ اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی تھی کہ بروقت اقدامات کیے جاتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سانحہ گل پلازہ شرجیل انعام میمن گل پلازہ جیوڈیشل انکوائری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ شرجیل انعام میمن سانحہ گل پلازہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔