سب سے زیادہ دن وزیراعظم پاکستان رہنے والوں کی فہرست میں شہباز شریف نے کس کس کو پیچھے چھوڑا؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف سب سے زیادہ دنوں تک پاکستان کے وزیراعظم رہنے والوں کی فہرست میں ایک ہزار 546 دنوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر آگئے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف، حکومت نے کونسی قابل تعریف معاشی اصلاحات کی ہیں؟
پہلے نمبر پر نواز شریف ہیں جو کہ 3 ادوار میں 3 ہزار 281 دنوں تک وزیراعظم پاکستان رہے ہیں، تیسرے نمبر پر وزیراعظم بینظیر بھٹو ہیں جو کہ ایک ہزار 530 دن وزیراعظم رہیں۔
اس کے بعد شہید ملت لیاقت علی خان ایک ہزار520 دن وزیراعظم پاکستان رہے جبکہ عمران خان ایک ہزار 362 دن وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہے۔
نواز شریف پہلی مرتبہ 6 نومبر 1990 سے 8 جولائی 1993 تک، دوسری مرتبہ 17 فروری 1997 سے 12 اکتوبر 1997 اور تیسری مرتبہ 5 جون 2013 سے 28 جولائی 2017 تک وزیراعظم پاکستان رہے ہیں۔ ان ادوار میں مجموعی طور پر نواز شریف 3 ہزار 281 دن وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف پہلے دور میں 11 اپریل 2022 سے 14 اگست 2023 تک وزیراعظم رہے ہیں اور اب 3 مارچ 2024 سے اب تک وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہیں۔
مزید پڑھیے: بینظیر بھٹو کی یاد میں بی آئی ایس پی کے زیراہتمام پروقار تقریب کا انعقاد
ان 2 ادوار میں شہباز شریف مجموعی طور پر ایک ہزار 545 دن وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔
بینظیر بھٹو پہلے دور میں 2 دسمبر 1988 سے 6 اگست 1990 تک وزیراعظم رہی ہیں اور دوسرے دور میں 19 اکتوبر 1993 سے 5 نومبر 1996 تک وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہیں۔
ان 2 ادوار میں بینظیر مجموعی طور پر ایک ہزار 530 دن وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہی ہیں۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم لیاقت علی خان 15 اگست 1947 سے 16 اکتوںر 1951 تک ایک ہزار 520 دن وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: قائد ملت لیاقت علی خان کی 72ویں برسی پر صدر، وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی کے اہم پیغام
عمران خان 18 اگست 2018 سے 10 اپریل 2022 تک ایک ہزار 362 دن وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بینظیر بھٹو پاکستان کے وزرا اعظم عمران خان میاں محمد نواز شریف وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بینظیر بھٹو پاکستان کے وزرا اعظم میاں محمد نواز شریف وزیراعظم شہباز شریف دن وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہے ہیں وزیراعظم شہباز شریف تک وزیراعظم پاکستان بینظیر بھٹو ادوار میں نواز شریف ایک ہزار
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔