جسٹس کمیٹی کا اجلاس، عدالتی امور و سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی صدارت میں جسٹس کمیٹی برائے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اسلام آباد میں جیل اصلاحات، امن و امان، عدالتی امور اور سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ماڈل جیل اسلام آباد کی تعمیر اور پیشرفتاجلاس میں اسلام آباد میں زیرِ تعمیر ماڈل جیل کے منصوبے سے متعلق امور اور پیش رفت پر غور کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ چیف کمشنر آئی سی ٹی کے مطابق منصوبے کی تکمیل کی تاریخ 30 جون 2026 مقرر ہے جبکہ جیل کی تعمیر آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور 85 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ماڈل جیل کی تکمیل میں مزید کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے اور اسے مقررہ تاریخ تک ہر صورت مکمل کیا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ جیل عملے کی تعیناتی اور دیگر انتظامی امور بھی ساتھ ساتھ مکمل کیے جائیں تاکہ یکم جولائی 2026 سے قیدیوں کی منتقلی کا عمل شروع کیا جا سکے۔
چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ سیکریٹری وزارت داخلہ، سیکریٹری خزانہ سے رابطہ کر کے تعمیراتی اور مالی مسائل حل کریں جبکہ آئندہ اجلاس میں سیکریٹری خزانہ کو بھی طلب کیا جائے گا۔
نیشنل پرزن ریفارم ایکشن پلان پر غوراجلاس میں نیشنل پریزن ریفارم ایکشن پلان کے تحت جیل اصلاحات ذیلی کمیٹی کی رپورٹ اور مجموعی ایکشن پلان پر بھی غور کیا گیا، جسے جیل نظام کی بہتری کے لیے ایک اہم فریم ورک قرار دیا گیا۔
جرائم میں اضافے پر تشویش، مؤثر تفتیش کی ہدایتچیف جسٹس نے آئی سی ٹی میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر چوری، ٹریفک حادثات اور زیادتی کے مقدمات میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ زیادتی کے مقدمات میں فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ لازمی حاصل کی جائے تاکہ اصل مجرم سزا سے بچ نہ سکے۔
چیف جسٹس نے زور دیا کہ جرائم کی مکمل اور شفاف تفتیش کی جائے اور تفتیشی افسران کی تربیت کا بندوبست کیا جائے تاکہ تمام ممکنہ شواہد بروقت اکٹھے کیے جا سکیں۔
مقدمات کے جلد فیصلے کی ہدایتچیف جسٹس نے ضلع عدلیہ کے جج صاحبان کو ہدایت کی کہ مقدمات جلد نمٹائے جائیں تاکہ عوامی شکایات کا بروقت اور مؤثر ازالہ ممکن ہو۔
امن و امان اور سیف سٹی نگرانی نظاماجلاس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور ڈیجیٹل/سیف سٹی نگرانی نظام پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بتایا گیا کہ اسلام آباد کے تقریباً 35 فیصد حساس علاقوں میں سی سی ٹی وی نگرانی موجود ہے، جن میں ریڈ زون، اہم شاہراہیں اور حساس مقامات شامل ہیں۔
تازہ رپورٹ کے مطابق 19,692 افراد اور 15,779 گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 17 چوری شدہ گاڑیاں برآمد ہوئیں جبکہ 15 اشتہاری ملزمان کی نشاندہی کی گئی۔
نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے منسلک کیمروں کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ پولیس کو اسلام آباد کے دیگر علاقوں، بالخصوص ریڈ زون میں مؤثر انداز میں تعینات کیا جائے۔
عدالتی عمارتوں اور ججوں کی رہائش گاہوں کی سیکیورٹیاجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس، فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس اور معزز جج صاحبان کی رہائش گاہوں کی سیکیورٹی کا بھی جائزہ لیا گیا۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ آئی سی ٹی پولیس اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے سیکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا جائے اور اس کا مسلسل جائزہ اور نگرانی یقینی بنائی جائے۔
خودکش حملہ آور کی گرفتاری پر پولیس کی تعریفچیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کی حکمت عملی کو سراہا، جس کے باعث جوڈیشل کمپلیکس جی-11 میں خودکش حملہ آور کو داخل ہونے سے روک لیا گیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ جوڈیشل کمپلیکس میں مزید ایمرجنسی اخراجی راستے تعمیر کیے جائیں اور ہنگامی الارم سسٹم نصب کیا جائے، جبکہ اخراجی راستوں کو بھی الارم سسٹم سے منسلک کیا جائے۔
محکمہ استغاثہ کی کارکردگی کا جائزہاجلاس میں آئی سی ٹی کے محکمہ استغاثہ کی کارکردگی اور چالان جمع کروانے کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ چالان مناسب جانچ پڑتال کے بعد اور بروقت جمع کروائے جائیں۔
وفاقی پراسیکیوٹر جنرل نے محکمہ کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا، جس پر چیف جسٹس نے متعلقہ وزارت کو ہدایت دی کہ ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ جسٹس کمیٹی برائے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد اجلاس میں آئی سی ٹی کیا جائے لیا گیا
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :