کوہ سلیمان ڈویژن کا قیام علاقے کی پسماندگی مٹانے کے لیے اہم قدم ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ کوہ سلیمان کے پہاڑ یہاں کے غیرت مند قبائل کی تاریخ اور مسکن ہیں اور کوہ سلیمان ڈویژن کا قیام یہاں کی پسماندگی کے لیے اہم قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کا بیشتر بجٹ تنخواہوں اور پنشن پر خرچ، ترقی کے لیے محدود وسائل دستیاب، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے رکنی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوہ سلیمان ڈویژن کے قیام کا مقصد صرف انتظامی درجہ نہیں بلکہ یہاں تمام بنیادی سہولیات بھی فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ نئے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال، ریزیڈنشل کالج، نہاڑکور ڈیم، رکنی ماڈل بازار، پریس کلب اور ہاوسنگ اسکیم قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ رکنی کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا جائے گا اور ڈیرہ کھیتران کے نام سے مشہور اضلاع کے عوام کو فائدہ پہنچایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ نوجوان اس وقت خواب دیکھنے کے نہیں بلکہ خواب پورے کرنے کا وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیرت وراثت میں ملتی ہے لیکن ترقی محنت سے حاصل ہوتی ہے اور قوم کردار سے بنتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو علم اور محنت کو اپنی طاقت بنانے کی ترغیب دی۔
مزید پڑھیے: سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی، سرفراز بگٹی
جلسے میں راکین صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل، حاجی علی مدد جتک، میر باز محمد کھیتران، سابق صوبائی وزیر نصیب اللہ مری، عبدالکریم کھیتران، ڈسٹرکٹ چیئرمین ڈیرہ بگٹی و ڈیرہ غلام نبی شمبانی، ضلع چیئرمین کوہلو میر نثار احمد مری اور سمیع خان زرکون سمیت دیگر مقامی رہنما بھی موجود تھے۔
شرکا نے وزیر اعلیٰ کے عوام دوست اقدامات کو سراہا اور کہا کہ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ کسی یونین کونسل کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کا درجہ دیا گیا ہے۔
سکیورٹی اور انتظامات کا جائزہرکنی میں جلسے کی تیاریاں مکمل کرنے کے لیے کمشنر لورالائی ڈویژن، ڈی آئی جی پولیس لورالائی رینج، ڈپٹی کمشنر بارکھان اور اسسٹنٹ کمشنر نے جلسہ گاہ کا تفصیلی معائنہ کیا اور سیکیورٹی، سہولیات اور انتظامی امور کو حتمی شکل دی۔
بلوچستان میں دیگر سرکاری سرگرمیاںکوئٹہ میں صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی اور سیکریٹری لائیو اسٹاک محمد طیب لہڑی نے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سیکریٹری محترمہ سائرہ عطا کو خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی۔
مزید پڑھیں: ‘کیا بارش برسانا میرے بس میں ہے؟’ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے یہ کیوں پوچھا؟
موسیٰ خیل میں ڈپٹی کمشنر عبد الرزاق خجک سے قبائلی عمائدین نے ملاقات کی اور بارکھان کی سرحدی حدود میں تجاوزات سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا، جس پر انتظامیہ نے فوری حل کا یقین دلایا۔
کوئٹہ میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت اربن پلاننگ اینڈ ڈیزائننگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں شہر کے ماسٹر پلان، بلڈنگ کوڈز، نکاسی آب اور پارکنگ کے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔
بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (BUMHS) نے صوبے کے مختلف نرسنگ کالجز میں 4 سالہ بی ایس نرسنگ پروگرام کے لیے داخلوں کا اعلان کیا ہے جو صرف اہل بلوچستان امیدواروں کے لیے ہوں گے۔ داخلہ میرٹ کی بنیاد پر دیا جائے گا اور درخواستیں 13 فروری 2026 تک جمع کرائی جا سکتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان کوہ سلیمان ڈویژن وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سرفراز بگٹی وزیر اعلی انہوں نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ