سانحہ گل پلازا: ایم کیو ایم وفاقی و اعلیٰ سطح کے تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے مطالبے پر قائم
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
فوٹو: فائل
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے کہا ہے کہ وہ سانحہ گل پلازا پر وفاقی اور اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے مطالبے پر قائم ہے۔
ترجمان ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت اعلیٰ سطح کا تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔
ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق سندھ حکومت کی رپورٹ اور ہائیکورٹ کو ارسال خط کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مرکزی کابینہ آئینی و قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد مؤقف دیں گے۔
وفاقی حکمران اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے سانحہ گل پلازا پر سندھ حکومت کی پیش کردہ رپورٹ مسترد کردی ۔
ایم کیو ایم ترجمان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو انصاف اور ذمہ داران کو سزا دلوانے تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازا کی جوڈیشل انکوائری کےلیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا تھا کہ سندھ حکومت واقعے کی جوڈیشل انکوائری کےلیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھے گی۔
سندھ حکومت واقعے کی جوڈیشل انکوائری کےلیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھے گی: شرجیل میمن
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی کے گل پلازا کے معاملے میں ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور ہائیڈرنٹ انچارج کے ڈبلیو ایس بی کو معطل کردیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ کراچی کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع شاپنگ سینٹر گل پلازا پر 17 جنوری کی رات آگ لگ گئی تھی۔
واقعے میں 80 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ریسکیو کے دوران ایک فائر فائٹر نے بھی اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جوڈیشل انکوائری سانحہ گل پلازا چیف جسٹس سندھ ایم کیو ایم سندھ حکومت
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔