کراچی:(نیوزڈیسک)سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرانے کا اعلان کردیا، شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے دباؤ میں نہیں آئیں گے، کسی نے آگ نہیں لگائی، آگ گیارہ سالہ بچے سے لگی۔

یہ بات وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کراچی پولیس چیف آزاد خان اور کمشنر کراچی حسن نقوی کے ہمراہ کراچی میں پریس کانفرنس میں کہی۔

انہوں ںے کہا کہ گل پلازہ سانحے کے بعد خصوصی طور پر کابینہ کا اجلاس ہوا اور سب کمیٹی تشکیل دی گئی، سی ایم نے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی تھی، کمیٹی کی رپورٹ آگئی ہے، آج وزیر اعلی کے پاس کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اہم فیصلے ہوئے ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ گل پلازہ میں جب آگ لگی اس وقت 2500 سے دو ہزار لوگ موجود تھے،
آگ لگنے کے بعد کافی لوگ نکل گئے تاہم 80 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد محکمہ سول ڈیفنس نے دو ہزار تئیس سے متعدد فائر آڈٹ کیے اس کے بعد کوئی اقدام نہیں کیے گئے اس عمل کا ضلعی انتظامیا نے حکومت کو نہیں بتایا جس پر ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر جنرل سول ڈیفنس کو فوری طور پر معطل کردیا گیا اس میں اگر کوئی اور بھی ملوث ہوا تو اس کو بھی سزا ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ کی جانب سے پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، چیف انجیئر بلکس اور چیف ہائڈرنٹس کو ہٹا کر محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے، سینئر ڈائریکٹر کی ایم سی کو عہدے سے ہٹا کر محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی، وزیراعلی کی ہدایات پر تمام ریسکیو کے اداروں کو ایک چھت تلے لے آئیں گے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ گل پلازہ میں فائر فائٹنگ سسٹم موجود نہیں تھا، گل پلازہ منظورہ شدہ بلڈنگ کے خلاف پائی گئی، یونین کی کوئی غفلت ثابت ہوئی تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، گل پلازہ کی لیز والے مرحلے میں سنگین بے ضابطگیاں نظر آئیں، اینٹی کرپشن کو کہا ہے اس پر قانون کے مطابق ایکشن لیں۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ سانحہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں گے جس کے لیے حاضر سروس ہائی کورٹ کے جج کو جوڈیشل کمیشن کا سربراہ مقرر کیا جائے گا جس کے لیے سندھ حکومت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ جماعتیں سیاست کر رہے ہیں، متاثرین کے گھروں پر ایک ایک کروڑ کے چیک پہنچائے جا رہے ہیں، اس سے زیادہ شفافیت کیا ہوگی کہ ہم اپنی کوتاہیوں کو بھی مان رہے ہیں، لیز کی تحقیقات اینٹی کرپشن کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے دن سے کہا تھا کہ کسی سیاسی جماعت کا دباؤ قبول نہیں کریں گے، مختلف سیاسی جماعتوں نے سانحہ گل پلازہ پر سیاست کی، ہم کسی سیاسی جماعت کے دباؤ میں نہیں آئیں گے، جس کا بھی قصور ہے جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات میں سامنے آجائے گا، کمیشن کی تحقیقات سامنے آنے دیں اپنے نتیجے خود نہ نکالیں، رپورٹ کے بعد عدالت فیصلہ کرے گی کون قصوروار ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آگ کیسے لگی اور کیسے پھیلی؟ یہ آئی جی بتاچکے، اے سی کے ڈکٹس سے آگ پھیلی، گیارہ سال کے بچے سے آگ لگی اس کے بھی شواہد موجود ہیں، بلیم گیم کی ضرورت نہیں کسی نے آگ نہیں لگائی، آگ کیسے لگی اس کے مضبوط شواہد موجود ہیں جب عدالت ہم سے مانگے کی تو عدالت میں شواہد جمع کرائیں گے۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم والے وفاقی وزارتیں چھوڑیں اگر کراچی کو وفاق کے حوالے کرنا ہے تو تھوڑا دباؤ بڑھائیں محض کراچی کی دیواریں خراب نہ کریں، سیاست نہ چمکائیں، جوڈیشل کمیشن ایم کیو ایم یا کسی جماعت کے مطالبے پر نہیں بنا یہ سندھ حکومت نے خود محسوس کیا اور فیصلہ کیا، ایم کیو ایم کو سیاست کرنی ہے مظاہرے کرنے ہیں تو کریں ہم انہیں نہیں روکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں ماضی میں نہیں جانا چاہتا، آپ سانحہ عاشورہ کی جے آئی ٹی رپورٹ پڑھ لیں پتا چل جائے گا کہ بولٹن مارکیٹ کی دکانوں میں آگ کس نے لگائی۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے کہا کہ آگ لگائی نہیں، نادانستہ طور پر لگی، کاغذ کے پھولوں کے دکان کے مالک باہر گئے تھے اس دوران بچے کے ہاتھ میں ماچس تھا اور آگ لگ گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن سیاسی جماعت سندھ حکومت کی تحقیقات گل پلازہ ئیں گے کے بعد

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا