جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج تیزی سے ٹیکنالوجی اپنا رہی ہیں: فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ جنگ کی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے، پاکستان کی مسلح افواج تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہیں، تیزی سے ٹیکنالوجی اپنا رہی ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بہاولپور گیریژن کا دورہ کیا، چیف آف آرمی سٹاف کو بہاولپور گیریژن میں مختلف آپریشنل، تربیتی اور انتظامی سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی، جس میں بالخصوص ملٹی ڈومین وارفیئر کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورس نے خیرپور ٹامیوالی (کے پی ٹی) میں فیلڈ ایکسرسائز اسٹیڈفاسٹ ریزولو کا مشاہدہ کیا، جس میں جدید ٹیکنالوجیز جیسے بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز)، جدید نگرانی کے آلات، الیکٹرانک وارفیئر کے وسائل اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کا باہمی انضمام شامل تھا، یہ مشق مسلح افواج کی ٹیکنالوجی پر مبنی ملٹی ڈومین آپریشنز پر توجہ کی عکاسی کرتی ہے۔جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ان کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں، انہوں نے مستقبل کے میدانِ جنگ اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت اعلیٰ سطح کی تیاری برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔چیف آف ڈیفنس فورس نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان کی مسلح افواج مختلف شعبوں میں بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہیں، جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے، جہاں ٹیکنالوجی میں ترقی اس ارتقا کو آگے بڑھا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں تمام سطحوں پر فکری تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی پر مبنی چالیں جسمانی چالوں کی جگہ لے لیں گی اور جارحانہ و دفاعی آپریشنز کے طریقہ کار کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیں گی، اسی لیے پاکستان کی مسلح افواج تیزی سے جدید ٹیکنالوجی کو اپنا رہی ہیں، اس عمل میں جدت، مقامی تیاری (انڈیجینائزیشن) اور مطابقت بنیادی ستون رہیں گے۔قبل ازیں چیف آف آرمی سٹاف نے روہی ای اسکلز لرننگ ہب (ایس ٹی پی) کا افتتاح کیا، جس کا مقصد بالخصوص جنوبی پنجاب اور ملک بھر کے طلبہ کے لیے ڈیجیٹل مہارتوں اور سیکھنے کے مواقع کو فروغ دینا ہے، انہوں نے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) عباسیہ کیمپس کا بھی افتتاح کیا، جو معیاری تعلیم اور کردار سازی کے لیے پاک فوج کے عزم کا مظہر ہے۔بعد ازاں چیف آف ڈیفنس فورس نے ای ایم ای ریجنل ورکشاپ کا دورہ کیا، جہاں انہیں جدید پلیٹ فارمز کی دیکھ بھال اور برقرار رکھنے کے نظام پر بریفنگ دی گئی، جو جدید ٹیکنالوجی، مقامی تیاری اور دیگر جنگی معاون اقدامات کے ذریعے انجام دی جا رہی ہے۔اس سے قبل، بہاولپور گیریژن پہنچنے پر چیف آف ڈیفنس فورس کا استقبال کمانڈر بہاولپور کور نے کیا، انہوں نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی، اور شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان کی مسلح افواج چیف آف ڈیفنس فورس فیلڈ مارشل انہوں نے رہی ہیں کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ