سابق آسٹریلوی کپتان ٹم پین پی ایس ایل فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کے ہیڈ کوچ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ کی نئی فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز نے سابق آسٹریلوی ٹیسٹ کپتان ٹم پین کو ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
سیالکوٹ اسٹالینز نے ایکس پر پوسٹ میں بتایا کہ ہم فخر کے ساتھ یہ اعلان کررہے ہیں کہ سابق آسٹریلوی کپتان ٹم پین کو سیالکوٹ اسٹالینز کا ہیڈ کوچ مقرر کیا جارہا ہے، ہم انہیں اسٹالینز فیملی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ 11: جیسن گلیسپی حیدرآباد فرنچائز کے ہیڈ کوچ مقرر
ٹم پین آسٹریلیا کی قومی ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں اور انہیں اعلیٰ سطح پر کرکٹ کا وسیع تجربہ حاصل ہے، سیالکوٹ سٹالینز کی انتظامیہ کے مطابق ٹم پین ایک منجھے ہوئے لیڈر ہیں جن کی قیادت اور پیشہ ورانہ سوچ ٹیم کو چیمپیئن شپ مائنڈ سیٹ کے ساتھ آگے بڑھانے میں مدد دے گی۔
We’re proud to announce Tim Paine as the Head Coach of ???????????????????????????? ????????????????????????????????????.
Former Australian captain.
Proven leader at the highest level.
A championship mindset to lead a new era.
Welcome to the Stallionz family, Coach ????????#SialkotStallionz #PSL #HeadCoach… pic.twitter.com/TQoTuKSx8U
— Sialkot Stallionz (@PSLStallionz) January 29, 2026
یہ تقرری پی ایس ایل 2026 سیزن کے لیے کی گئی ہے، جہاں سیالکوٹ سٹالینز پہلی بار لیگ کا حصہ بن رہی ہے۔ فرنچائز کا کہنا ہے کہ ٹم پین کی موجودگی ٹیم کی تشکیل اور حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ٹم پین کے کوچنگ کیریئر میں نمایاں تجربہ شامل ہے، وہ 2023 میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کے اسسٹنٹ کوچ رہے، 2024 میں پرائم منسٹر الیون کے ہیڈ کوچ مقرر ہوئے جبکہ 2025 میں آسٹریلیا اے ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر 3 سیریز کی نگرانی کرچکے ہیں،وہ ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کے ہیڈ کوچ بھی رہ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11: فرنچائزز کی جانب سے ری ٹین کیے گئے کھلاڑیوں کی فہرست جاری
یہ تقرری پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک اہم اور دلچسپ پیشرفت قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ آسٹریلوی کوچز کی مہارت سے پی ایس ایل کے معیار میں مزید بہتری آنے کی توقع ہے۔
ٹم پین کا یہ پہلا پی ایس ایل کوچنگ کردار ہے اور وہ سیالکوٹ سٹالینز کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
اس سے قبل پی ایس ایل کی نئی فرنچائز حیدر آباد نے بھی سابق آسٹریلوی کرکٹر جیسن گلپسی کو ہیڈ کوچ مقرر کیا ہے، جیسن گلیپسی پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ بھی رہ چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آسٹریلوی کھلاڑی پاکستان پی ایس ایل ٹم پین حیدرآباد سیالکوٹ اسٹالینز ہیڈ کوچ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلوی کھلاڑی پاکستان پی ایس ایل ٹم پین سیالکوٹ اسٹالینز ہیڈ کوچ ہیڈ کوچ مقرر کے ہیڈ کوچ پی ایس ایل کے لیے ٹم پین
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔