خاتون اور بچی کے مین ہول میں گرنے کا واقعہ:5افسران گرفتار،4نوکری سے برطرف
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: بھاٹی گیٹ واقعے کو قتل کے مترادف قرار دے کر پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 5 افسران کی گرفتاری اور4 افسران کو نوکری سے برطرف کرنے کا حکم بھی دے دیا گیاہے۔
لاہور میں مین ہول حادثے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس ہوا، جس میں واقعے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں مریم نواز نے غفلت کے مرتکب افسران کو شدید سرزنش کرتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 5 افسران کی گرفتاری اور 2 افسران کو ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم دے دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ایل ڈی اے، نیسپاک اور کنٹریکٹر، تینوں نے مجرمانہ غفلت برتی ہے۔ تعمیراتی کام شہریوں کی سہولت اور شہر کی خوبصورتی کے لئے ہے، لوگوں کی جانیں لینے کے لیے نہیں۔
انہوں نے کمشنر لاہور کو بھی واقعے کا اتنا ہی ذمہ دار قرار دیا جتنا ایل ڈی اے کو۔ واقعے کو دبانے کی کوشش کی گئی اور ہر مرحلے پر غفلت برتی گئی۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ ایک خاتون اور بچی مین ہول میں گر گئیں لیکن متاثرہ خاندان کو دلاسہ دینے کے بجائے خاتون کے شوہر کو ہی تھانے لے جایا گیا اور وہاں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی، جس پر سب کو جوابدہ ہونا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔