وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور واقعے کے ذمہ داروں کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انہیں دوبارہ نوکری نہیں ملے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت لاہور مین ہول واقعے سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں انہوں نے متعلقہ حکام سے واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے رپورٹ طلب کی۔

مریم نواز نے کہا کہ میں اس واقعے کی ذمہ داری تین لوگوں پر عائد ہوتی ہے جن کی مجرمانہ غفلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کا سُن کر میرے دل پر کیا گزررہی تھی  بتا نہیں سکتی، بھکر میں جب خبر ملی تو ایک ایک منٹ بہت مشکل سے گزرا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں سڑکیں بن رہی ہیں اور 500 ارب کا ترقیاتی کام ہورہا ہے، اگر 1 ہزار ارب کا کام بھی ہو تب بھی انسانی جانوں کے ضیاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گی۔

انہوں نے آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پروجیکٹ مینیجر اصغر سندھو، عثمان یاسین، سیفٹی انچارج دانیال اور احمد نواز کو گرفتار کریں اور ان پر غفلت کا مضبوط کیس بنائیں کیونکہ انہں چھوڑنا نہیں ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے متوفیہ کے شوہر کو گاڑی دے رہے ہیں جبکہ انہوں نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے متاثرہ اہل خانہ کو ادا کروائیں۔

مریم نواز نے کہا کہ ہمارے معذرت کرنے سے وہ لڑکی اور بیٹی واپس نہیں آسکتی، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور واسا کے متعلقہ عہدیدار کو نوکری سے برخاست کیا جائے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ’وہ لڑکی اپنی بیٹی کے ساتھ کھلے مین ہول میں گر گئی اور تین کلومیٹر آگے سے اُس کی لاش ملی جبکہ ہم کہہ رہے تھے کہ تو گری ہی نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں متوفیہ کے شوہر کے ساتھ ہمدردی کرنی چاہیے تھی مگر اُسے پکڑ کر تھانے لے گئے اور کہہ دیا کہ آپس کے تعلقات خراب ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ نام عظمیٰ بخاری کا آرہا ہے جبکہ اُن کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ جو انفارمیشن ہمیں مل رہی تھی وہ ہی انہیں بھی دی گئی تھی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور