لاہور واقعہ، غفلت برتنے پر برطرف افسران کو دوبارہ ملازمت نہیں ملنی چاہیے، وزیراعلیٰ پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور واقعے کے ذمہ داروں کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انہیں دوبارہ نوکری نہیں ملے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت لاہور مین ہول واقعے سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں انہوں نے متعلقہ حکام سے واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے رپورٹ طلب کی۔
مریم نواز نے کہا کہ میں اس واقعے کی ذمہ داری تین لوگوں پر عائد ہوتی ہے جن کی مجرمانہ غفلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کا سُن کر میرے دل پر کیا گزررہی تھی بتا نہیں سکتی، بھکر میں جب خبر ملی تو ایک ایک منٹ بہت مشکل سے گزرا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں سڑکیں بن رہی ہیں اور 500 ارب کا ترقیاتی کام ہورہا ہے، اگر 1 ہزار ارب کا کام بھی ہو تب بھی انسانی جانوں کے ضیاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گی۔
انہوں نے آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پروجیکٹ مینیجر اصغر سندھو، عثمان یاسین، سیفٹی انچارج دانیال اور احمد نواز کو گرفتار کریں اور ان پر غفلت کا مضبوط کیس بنائیں کیونکہ انہں چھوڑنا نہیں ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے متوفیہ کے شوہر کو گاڑی دے رہے ہیں جبکہ انہوں نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے متاثرہ اہل خانہ کو ادا کروائیں۔
مریم نواز نے کہا کہ ہمارے معذرت کرنے سے وہ لڑکی اور بیٹی واپس نہیں آسکتی، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور واسا کے متعلقہ عہدیدار کو نوکری سے برخاست کیا جائے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ’وہ لڑکی اپنی بیٹی کے ساتھ کھلے مین ہول میں گر گئی اور تین کلومیٹر آگے سے اُس کی لاش ملی جبکہ ہم کہہ رہے تھے کہ تو گری ہی نہیں ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں متوفیہ کے شوہر کے ساتھ ہمدردی کرنی چاہیے تھی مگر اُسے پکڑ کر تھانے لے گئے اور کہہ دیا کہ آپس کے تعلقات خراب ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ نام عظمیٰ بخاری کا آرہا ہے جبکہ اُن کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ جو انفارمیشن ہمیں مل رہی تھی وہ ہی انہیں بھی دی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.