لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے بھائی اور ننھی بچی کے ماموں نے واقعے کو ’فیک نیوز‘ قرار دینے اور حقائق چھپانے پر متعلقہ سرکاری اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔

دیگر اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اداروں نے اپنی غفلت چھپانے کے لیے نہ صرف واقعے سے انکار کیا بلکہ متاثرہ خاندان کو ہراساں بھی کیا گیا۔

یہ افسوسناک واقعہ بھاٹی گیٹ کے قریب داتا دربار کے سامنے گزشتہ رات پیش آیا، جہاں ترقیاتی کام جاری تھا اور سیوریج مین ہول کھلا ہوا تھا۔

متاثرہ خاتون اپنی کمسن بیٹی کے ساتھ دربار پر حاضری کے بعد رکشے سے اتر رہی تھیں کہ اچانک پاؤں پھسلنے کے باعث دونوں کھلے مین ہول میں جا گریں۔

اہلِ خانہ کے مطابق مین ہول تقریباً 20 سے 25 فٹ گہرا تھا اور اس پر کوئی ڈھکن موجود نہیں تھا۔

وی نیوز سے خصوصی انٹرویو میں خاتون کے بھائی اور بچی کے ماموں نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد 1122 کو اطلاع دی گئی، تاہم ریسکیو ٹیم مقررہ وقت سے تاخیر سے پہنچی۔ بعد ازاں سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جبکہ واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (WASA) کے اہلکار بھی موقع پر پہنچے۔

اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ واسا اور دیگر متعلقہ اداروں نے واقعے کے فوراً بعد یہ مؤقف اختیار کر لیا کہ یہاں کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا، اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ مین ہول اتنا تنگ ہے کہ کوئی اس میں گر ہی نہیں سکتا۔

متاثرہ خاندان کے مطابق یہ بیانیہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا اور صرف ادارہ جاتی غفلت چھپانے کے لیے پھیلایا گیا۔

متاثرہ خاندان نے مزید الزام عائد کیا کہ ’فیک نیوز‘ کے دعوے کی بنیاد پر پولیس نے خاتون کے شوہر اور رکشہ ڈرائیور، جو کہ خاندان کا ہی فرد تھا، کو حراست میں لے کر تفتیش کی۔ اہلِ خانہ کے مطابق انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ وہ خود ایک بڑے سانحے سے گزر رہے تھے۔

اہلِ خانہ نے بتایا کہ بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز (DIG Operations Lahore) کی سطح پر معاملے کا نوٹس لیا گیا، جس کے بعد متاثرہ خاندان سے رابطہ بحال ہوا اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

خاتون کے بھائی نے کہا کہ ان کی بہن کے 3 کمسن بچے ہیں، جن میں 10 ماہ کی بچی بھی شامل تھی جو حادثے کا شکار ہوئی۔ خاتون کی لاش نکال لی گئی ہے، جبکہ ننھی بچی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

اہلِ خانہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ واسا، ٹیپا (TEPA)، متعلقہ کنٹریکٹر، اسٹینڈ انتظامیہ اور ذمہ دار افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو ایسے واقعات دوبارہ رونما ہوتے رہیں گے۔

متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، غفلت کے مرتکب تمام اداروں اور افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

ریسکیو حکام کے مطابق بچی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک مکمل بازیابی نہیں ہو جاتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

لاہور بھاٹی گیٹ سانحہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: لاہور بھاٹی گیٹ سانحہ خاتون کے بھائی متاثرہ خاندان بھاٹی گیٹ کے مطابق مین ہول کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا