بھاٹی گیٹ حادثہ: جاں بحق خاتون کے بھائی اور بچی کے ماموں کا غلط خبر پھیلانے والے اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے بھائی اور ننھی بچی کے ماموں نے واقعے کو ’فیک نیوز‘ قرار دینے اور حقائق چھپانے پر متعلقہ سرکاری اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔
دیگر اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اداروں نے اپنی غفلت چھپانے کے لیے نہ صرف واقعے سے انکار کیا بلکہ متاثرہ خاندان کو ہراساں بھی کیا گیا۔
یہ افسوسناک واقعہ بھاٹی گیٹ کے قریب داتا دربار کے سامنے گزشتہ رات پیش آیا، جہاں ترقیاتی کام جاری تھا اور سیوریج مین ہول کھلا ہوا تھا۔
متاثرہ خاتون اپنی کمسن بیٹی کے ساتھ دربار پر حاضری کے بعد رکشے سے اتر رہی تھیں کہ اچانک پاؤں پھسلنے کے باعث دونوں کھلے مین ہول میں جا گریں۔
اہلِ خانہ کے مطابق مین ہول تقریباً 20 سے 25 فٹ گہرا تھا اور اس پر کوئی ڈھکن موجود نہیں تھا۔
وی نیوز سے خصوصی انٹرویو میں خاتون کے بھائی اور بچی کے ماموں نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد 1122 کو اطلاع دی گئی، تاہم ریسکیو ٹیم مقررہ وقت سے تاخیر سے پہنچی۔ بعد ازاں سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جبکہ واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (WASA) کے اہلکار بھی موقع پر پہنچے۔
اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ واسا اور دیگر متعلقہ اداروں نے واقعے کے فوراً بعد یہ مؤقف اختیار کر لیا کہ یہاں کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا، اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ مین ہول اتنا تنگ ہے کہ کوئی اس میں گر ہی نہیں سکتا۔
متاثرہ خاندان کے مطابق یہ بیانیہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا اور صرف ادارہ جاتی غفلت چھپانے کے لیے پھیلایا گیا۔
متاثرہ خاندان نے مزید الزام عائد کیا کہ ’فیک نیوز‘ کے دعوے کی بنیاد پر پولیس نے خاتون کے شوہر اور رکشہ ڈرائیور، جو کہ خاندان کا ہی فرد تھا، کو حراست میں لے کر تفتیش کی۔ اہلِ خانہ کے مطابق انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ وہ خود ایک بڑے سانحے سے گزر رہے تھے۔
اہلِ خانہ نے بتایا کہ بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز (DIG Operations Lahore) کی سطح پر معاملے کا نوٹس لیا گیا، جس کے بعد متاثرہ خاندان سے رابطہ بحال ہوا اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
خاتون کے بھائی نے کہا کہ ان کی بہن کے 3 کمسن بچے ہیں، جن میں 10 ماہ کی بچی بھی شامل تھی جو حادثے کا شکار ہوئی۔ خاتون کی لاش نکال لی گئی ہے، جبکہ ننھی بچی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
اہلِ خانہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ واسا، ٹیپا (TEPA)، متعلقہ کنٹریکٹر، اسٹینڈ انتظامیہ اور ذمہ دار افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو ایسے واقعات دوبارہ رونما ہوتے رہیں گے۔
متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، غفلت کے مرتکب تمام اداروں اور افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
ریسکیو حکام کے مطابق بچی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک مکمل بازیابی نہیں ہو جاتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
لاہور بھاٹی گیٹ سانحہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لاہور بھاٹی گیٹ سانحہ خاتون کے بھائی متاثرہ خاندان بھاٹی گیٹ کے مطابق مین ہول کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔