طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کر دی۔
جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ طلبہ یونین کی بحالی کیوں چاہتے ہیں؟ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ تعلیم پہلے ہی تباہ ہے، آپ اور کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟ طلبہ یونین کا کیا مقصد اور فائدہ ہے؟
درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ یونین کا مقصد طلبا کو پالیسی سازی میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ جس طرح فیکٹریوں میں یونین ہوتی ہے، کیا طلبا وائس چانسلر کو دھمکانا چاہتے ہیں؟ درخواست گزار کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ ابھی بھی طالب علم ہیں؟ فائل میں 2021 کے دستاویز لگے ہیں۔
آئینی بینچ نے درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کر دی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل طلبہ یونین کی بحالی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔