اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے آج وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے یورپی یونین کے سفیر کا خیرمقدم کیا جنہوں نے چند ماہ قبل پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں، خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، ترقی و سلامتی، مائیگریشن اور موسمیاتی تبدیلی میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کے فروغ میں جی ایس پی پلس اسکیم کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان یورپی یونین کے ساتھ بالخصوص جی ایس پی پلس کے تحت باہمی مفاد پر مبنی تجارتی فروغ کے اقدامات پر قریبی تعاون کے لیے پُرعزم ہے۔

وزیراعظم نے گزشتہ برس نومبر میں برسلز میں منعقد ہونے والے پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور پر اطمینان کا اظہار کیا جس میں پاکستانی وفد کی قیادت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کی تھی۔

یورپی یونین کے سفیر نے پاکستان آمد کے بعد وزیراعظم کی جانب سے ملنے والے پُرتپاک استقبال پر دلی تشکر کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ وہ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید مستحکم بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں نے یورپی یونین کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام بھی پہنچایا اور کہا کہ یورپی یونین جی ایس پی پلس کے تحت تجارت کے فروغ کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں، بشمول اپریل میں منعقد ہونے والے پہلے یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم، کے ذریعے پاکستان کے ساتھ قریبی روابط کے لیے پُرعزم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔

بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور  اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی