بانی پی ٹی آئی کیخلاف آزادی مارچ کے دو مقدمات داخل دفتر
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسلام آباد راولپنڈی(وقائع نگار+ جنرل رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر ندیم نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف حقیقی آزادی مارچ کے دو کیسز کو داخل دفتر کر دیا۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے بتایا کہ یہ 2022 کے کیسز ہیں جن میں متعدد ملزم پہلے ہی بری ہو چکے ہیں اور ان کی دو سال سے بریت کی درخواست زیر سماعت ہے، بانی پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا ، عدالت یا تو بریت کی درخواست سن لے یا کیس داخل دفتر کر دے دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد کے مقدمہ میں ملوث علیمہ خانم کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت 2 فروری تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے ملزمہ کے منجمد شدہ بنک اکاونٹ اور شناختی کارڈ بحال کرنے کی درخواست پر کارروائی بھی آئندہ سماعت سے منسلک کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ علیمہ خانم آئندہ سماعت پر پیش ہونگی تو بنک اکاو نٹ اور شناختی کارڈ بحال کردئیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کی درخواست
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔