جنوبی کوریا، سابق خاتونِ اول کو رشوت اور بدعنوانی کے جرم میں قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
عدالت نے ملک کی سابق خاتونِ اول کم کیون ہی کو رشوت لینے اور بدعنوانی کے الزامات میں ایک سال اور 8 ماہ قید کی سزا سنائی ہے. اسلام ٹائمز۔ جنوبی کوریا کی عدالت نے ملک کی سابق خاتونِ اول کم کیون ہی کو رشوت لینے اور بدعنوانی کے الزامات میں ایک سال اور 8 ماہ قید کی سزا سنائی ہے. عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خاتونِ اوّل کم کیون ہی نے یونفیکیشن چرچ نامی مذہبی گروپ کے عہدیداروں سے عمدہ تحائف اور قیمتی اشیاء بطور رشوت لی تھیں۔ جن میں لاکھوں ڈالر مالیت کا ایک چینل بیگ اور گراف ہیرے کا ہار بھی شامل ہے جس کے بدلے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے یونیفیکشن چرچ کو فائدہ پہنچایا گیا۔سابق خاتونِ اوّل پر اسٹاک قیمتوں میں ہیرا پھیری اور سیاسی فنڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات بھی لگائے گئے تھے لیکن عدالت نے ناکافی ثبوت کے باعث انھیں بری کر دیا تھا۔ پراسیکیوٹرز نے عدالت سے خاتون اوّل کے لیے 15 سال قید اور بھاری جرمانے کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے انہیں صرف رشوت سے متعلق جرم پر ہی قصوروار ٹھہرایا اور سزا میں رعایت دی۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ کم کیون ہی نے اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور ذاتی مفادات کے لیے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔
جج نے واضح کیا کہ صدر کے قریب رہنے والی شخصیت کو اپنی عزت، ساکھ اور عوامی کردار کا خاص خیال رکھنا چاہیے مگر انہوں نے اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ کم کیون ہی نے عدالت میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا تاہم انھوں نے عوام سے معذرت بھی کی کہ ان کی وجہ سے لوگوں کو تشویش کا سامنا کرنا پڑا۔ خاتون اوّل کے وکلا نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد اپیل کی درخواست کریں گے۔ یاد رہے کہ کم کیون ہی کے شوہر یون سُک یول جنوبی کوریا کے سابق صدر ہیں جو 2024ء میں مارشل لا نافذ کرنے اور دیگر سنگین الزامات کے باعث گرفتار ہیں۔ ایک کیس میں سابق صدر یون سک یول کو پانچ سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ ایک الگ مقدمے میں ممکنہ عمر قید یا سزائے موت کے لیے بھی سامنا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سابق خاتون کم کیون ہی قید کی سزا عدالت نے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :