آئینی عدالت میں سائلین اور وکلا کیلئے ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
آئینی عدالت میں سائلین اور وکلا کیلئے ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف WhatsAppFacebookTwitter 0 28 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی آئینی عدالت میں سائلین اور وکلا کے لیے ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف کروا دی گئی۔وفاقی آئینی عدالت نے شفافیت اور سہولت بڑھانے کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔
جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مقدمات کے اندراج اور سماعت کی تاریخ سے آگاہی اب ایس ایم ایس کے ذریعے ہوگی، عدالتی کارروائیوں سے متعلق معلومات اب بروقت موبائل پر دستیاب ہوں گی۔ایس ایم ایس سروس سے عدالتوں میں غیر حاضری میں کمی متوقع ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ اور نئے تمام مقدمات کے لیے ایس ایم ایس سہولت دستیاب ہوگی۔وفاقی آئینی عدالت میں ڈیجیٹل اصلاحات کا نیا مرحلہ شروع ہوگیا جس کے تحت عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے مثر استعمال پر زور دیا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرروانڈا کے وزیر تجارت و صنعت، پروڈنس سیباہیزی دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے روانڈا کے وزیر تجارت و صنعت، پروڈنس سیباہیزی دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے سابقہ وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد جدہ واپس پہنچ گئے الیکشن کمیشن کو کس نے اختیار دیا ہماری مخصوص نشست پر اجنبی خاتون کو لے آئے، ترجمان جے یو آئی ای سی سی اجلاس،تعلیم، توانائی سمیت دیگر شعبوں کیلئے 66ارب روپے فنڈز کی منظوری کراچی سے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں، چیئرمین نیب نذیر احمد وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئینی عدالت میں ایس ایم ایس
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔