Express News:
2026-06-02@22:20:42 GMT

عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی ہلچل

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

کراچی:

عالمی مارکیٹ میں جمعرات کی شب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی ہلچل مچ گئی اور قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد 5 فیصد گر گئی۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت 5 ہزار 594 ڈالر کی ریکارڈ بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد اچانک  5فیصد گر کر 5ہزار 109ڈالر کی تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق ریکارڈ اضافے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر فروخت سونے کی قیمتوں پر دباؤ کا باعث بنی تاہم سونا اب بھی ماہانہ بنیادوں پر 24فیصد اضافے کے ساتھ سال 1980 کے بعد بہترین پوزیشن میں ہے۔

دوسری جانب، چاندی کی قیمت بھی 121ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد دوبارہ 7ڈالر گر کر 114 ڈالر کی سطح پر آگئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چاندی اور پلاٹینم جیسی چھوٹی مارکیٹوں میں قیاس آرائیوں کی وجہ سے حقیقی قیمت سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔

یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ (UBS) نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 کے وسط تک عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 6 ہزار 200 ڈالر کی بلند ترین سطح تک جاسکتا ہے۔

آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین عمران ٹسوری کے مطابق سونے کی قیمت میں 4فیصد سے زائد کی کمی سے تقریباً 5ہزار 140ڈالر فی اونس رہ گئی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کی فی اونس قیمت 5ہزار 600ڈالر کی بلند سطح پر پہنچتے ہی وسیع پیمانے پر منافع حاصل کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سونے کو امریکی اثاثوں پر اعتماد میں کمی کی حمایت حاصل تھی، جو بڑھتی ہوئی معاشی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال کے باعث پیدا ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ سونے کی قیمت میں ریکارڈ تیزی اس وقت رونما ہوئی جب امریکی صدر ٹرمپ نے ڈالر کی قدر گھٹ کر چار سال کی کم ترین سطح پر آنے کو یکسر نظرانداز کیا، جس سے کمزور کرنسی کے لیے برداشت کا اشارہ ملا، ساتھ ہی نئے ٹیرف خطرات اور امریکی فیڈرل ریزرو کی خودمختاری پر تازہ تنقید بھی سامنے آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے لیبر مارکیٹ میں استحکام کو جواز بنا کر شرح سود میں بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رکھا ہے تاہم فیڈرل ریزرو نے مہنگائی کی بلند شرح برقرار رہنے اور مستقبل کے امکانات غیر یقینی ہونے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔

عمران ٹیسوری کے مطابق امریکی دھمکیوں پر ایران کی جانب سے اپنے دفاع کرنے کے عزم کے ساتھ پہلے سے زیادہ سخت جواب دینے کے ردعمل سے جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور برقرار ہیں، جس سے صورت حال مزید سنگین ہوگئی ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین نے بھی ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا، امریکا کی ایران کے قریب اپنی فوج کی تعیناتی اور تہران کی آبنائے ہرمز میں اپنی فوجی مشقوں سے خطے میں جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سونے کی قیمت مارکیٹ میں کی جانب سے ڈالر کی کی بلند کے بعد

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟