Express News:
2026-07-24@01:59:23 GMT

عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی ہلچل

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

کراچی:

عالمی مارکیٹ میں جمعرات کی شب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی ہلچل مچ گئی اور قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد 5 فیصد گر گئی۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت 5 ہزار 594 ڈالر کی ریکارڈ بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد اچانک  5فیصد گر کر 5ہزار 109ڈالر کی تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق ریکارڈ اضافے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر فروخت سونے کی قیمتوں پر دباؤ کا باعث بنی تاہم سونا اب بھی ماہانہ بنیادوں پر 24فیصد اضافے کے ساتھ سال 1980 کے بعد بہترین پوزیشن میں ہے۔

دوسری جانب، چاندی کی قیمت بھی 121ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد دوبارہ 7ڈالر گر کر 114 ڈالر کی سطح پر آگئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چاندی اور پلاٹینم جیسی چھوٹی مارکیٹوں میں قیاس آرائیوں کی وجہ سے حقیقی قیمت سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔

یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ (UBS) نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 کے وسط تک عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 6 ہزار 200 ڈالر کی بلند ترین سطح تک جاسکتا ہے۔

آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین عمران ٹسوری کے مطابق سونے کی قیمت میں 4فیصد سے زائد کی کمی سے تقریباً 5ہزار 140ڈالر فی اونس رہ گئی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کی فی اونس قیمت 5ہزار 600ڈالر کی بلند سطح پر پہنچتے ہی وسیع پیمانے پر منافع حاصل کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سونے کو امریکی اثاثوں پر اعتماد میں کمی کی حمایت حاصل تھی، جو بڑھتی ہوئی معاشی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال کے باعث پیدا ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ سونے کی قیمت میں ریکارڈ تیزی اس وقت رونما ہوئی جب امریکی صدر ٹرمپ نے ڈالر کی قدر گھٹ کر چار سال کی کم ترین سطح پر آنے کو یکسر نظرانداز کیا، جس سے کمزور کرنسی کے لیے برداشت کا اشارہ ملا، ساتھ ہی نئے ٹیرف خطرات اور امریکی فیڈرل ریزرو کی خودمختاری پر تازہ تنقید بھی سامنے آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے لیبر مارکیٹ میں استحکام کو جواز بنا کر شرح سود میں بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رکھا ہے تاہم فیڈرل ریزرو نے مہنگائی کی بلند شرح برقرار رہنے اور مستقبل کے امکانات غیر یقینی ہونے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔

عمران ٹیسوری کے مطابق امریکی دھمکیوں پر ایران کی جانب سے اپنے دفاع کرنے کے عزم کے ساتھ پہلے سے زیادہ سخت جواب دینے کے ردعمل سے جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور برقرار ہیں، جس سے صورت حال مزید سنگین ہوگئی ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین نے بھی ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا، امریکا کی ایران کے قریب اپنی فوج کی تعیناتی اور تہران کی آبنائے ہرمز میں اپنی فوجی مشقوں سے خطے میں جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سونے کی قیمت مارکیٹ میں کی جانب سے ڈالر کی کی بلند کے بعد

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی