Jasarat News:
2026-07-24@03:30:13 GMT

غزہ امن بورڈ کے نام پر ظلم کی قانونی شکل

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید اختلافات نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو ایک بار پھر سیاسی میدان جنگ بنا دیا جہاں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اپوزیشن کے تمام اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بورڈ میں شامل ہونے سے پاکستان کو فلسطینی حقوق کے دفاع کا اہم پلیٹ فارم ملا ہے اور اسرائیل پر ہمارا تاریخی موقف بالکل واضح اور برقرار ہے اگر ہم حصہ نہ بنتے تو اپوزیشن خود یہ الزام لگاتی کہ ملک تنہا رہ گیا ہے اور عالمی سطح پر فلسطین کے معاملے پر خاموش ہو گیا ہے۔ مگر یہ فیصلہ قومی مفاد اور مسلم امہ کی اجتماعی ترجیحات کے مطابق کیا گیا ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے علامہ راجا ناصر عباس جیسے رہنماؤں نے شدید تنقید کی کہ جو کام نیتن یاہو براہ راست نہ کر سکا اب غزہ امن بورڈ کے نام پر وہی مقاصد آہستہ آہستہ پورے کیے جا رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمن نے براہِ راست وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ غلامی مبارک ہو ہمیں ایسی غلامی قبول نہیں ہے جس میں ظالم کے ساتھ بیٹھ کر امن کے نعرے لگائے جائیں جبکہ ایوان میں اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کیا اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو کر نعرے لگائے ایوان پر حملہ نامنظور عدلیہ پر حملہ نامنظور غزہ پیس بورڈ نامنظور اور بینرز لہرائے جس پر اسپیکر ایاز صادق نے تنبیہ کی کہ یہ مشترکہ اجلاس ہے نعرے بازی اور بینرز بعد میں لہرانے کے لیے ہیں مگر یہ احتجاج پاکستان کی عوامی رائے کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام فلسطین کے ساتھ مکمل یکجہتی میں ہیں اور حکمرانوں کا یہ موقف عوام سے بالکل الگ ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ پہلے زمین میں فساد پھیلاتے ہیں پھر امن کی بات کرتے ہیں جو آج غزہ میں ہو رہا ہے اسرائیل نے عرصہ دراز سے دہشت گردی کی ہے جنگ مسلط کی ہے جبری قبضہ کیا ہے فلسطینیوں پر ظلم ڈھائے ہیں معصوم بچوں عورتوں اور بوڑھوں کی شہادتیں ہوئیں اور اس کی ذمے داری ظالم طاقتوں پر عائد ہوتی ہے مگر اب یہ امن بورڈ بنایا جا رہا ہے جس میں شامل ہونے والوں کی اتنی حیثیت بھی نہیں کہ وہ فلسطینیوں تک خوراک اور دوائی اپنی مرضی سے پہنچا سکیں۔ فلسطین کے لوگ خود اس بورڈ کا حصہ نہیں ہیں ان کی مرضی شامل نہیں ہے تو پھر یہ بورڈ کس کے لیے ہے؟ ظلم پر خاموش تماشائی بن کر اب امن کے گیت گانے والوں کو شرم نہیں آتی، دنیا میں امن تباہ کرنے والوں کو نوبل انعام دینے کی باتیں ہوتی ہیں مگر ہمارے لیڈروں کو اس کی فکر ہے کہ کہیں نوبل کے لیے مواقع ضائع نہ ہو جائیں یہ سب کچھ اب گرین لینڈ یا کسی اور جگہ کے لیے نہیں بلکہ غزہ کے بعد کے منظر نامے کو قبول کرانے کے لیے ہے جہاں نسل کشی کے بعد امن کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ پاکستانی عوام اہل فلسطین کے ساتھ ہیں ان کی آزادی اور حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے مگر حکمرانوں کے فیصلوں سے ان کی رائے الگ ہے۔ بورڈ میں شمولیت سے پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ یہ امریکا کی قیادت میں ہے اور ٹرمپ کے منصوبے کا حصہ ہے جسے بہت سے مسلم ممالک نے قبول کیا مگر پاکستان جیسا ملک جو ہمیشہ فلسطین کا حامی رہا اسے اس میں شامل ہونے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ یہ شمولیت فلسطینیوں کی جدوجہد کو کمزور تو نہیں کر رہی اور ظالم کو براہ راست یا بالواسطہ فائدہ تو نہیں پہنچا رہی ہے؟

اپوزیشن کا احتجاج اسی لیے شدید ہے کہ وہ سمجھتے ہیں یہ فیصلہ قومی مفاد کے خلاف ہے اور عوام کی آواز کو دبا رہا ہے جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ سفارتی کامیابی ہے اور پاکستان کی آواز غزہ کے معاملے پر مزید مضبوط ہو گی مگر حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ حل ہونے تک امن بورڈ جیسے اقدامات محض وقتی اور سطحی لگتے ہیں جب تک اسرائیل پر دباؤ نہیں ڈالا جاتا قبضہ ختم نہیں کیا جاتا فلسطینیوں کو خودمختاری نہیں دی جاتی تب تک یہ سب کچھ دھوکا اور ظلم کی توسیع ہی ہے عوام کی یکجہتی فلسطین کے ساتھ ہے اور رہے گی چاہے حکمران کتنے ہی فیصلے کریں پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے دیگر بلوں جیسے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل دانش اسکولز اتھارٹی بل اور گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل میں بھی حکومتی ترامیم منظور ہوئیں اپوزیشن کی مسترد ہوئیں جن میں گھریلو تشدد کے بل میں بیوی کو گھورنا طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی کو جرم قرار دیا گیا ہے، مگر غزہ جیسے حساس ایشو پر اختلافات نے اجلاس کو مزید گرم کر دیا۔ سانحہ کراچی پر یکجہتی کی قرارداد بھی منظور ہوئی مگر اصل توجہ غزہ امن بورڈ پر رہی جو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر رہا ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ پاکستان فلسطین کا سچا حامی رہے نہ کہ کسی ایسے بورڈ کا حصہ بنے جو ظالم کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے یہ فیصلہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا ہے اور وقت بتائے گا کہ یہ درست تھا یا غلط مگر عوامی شعور جاگ رہا ہے اور فلسطین کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی ان شاء اللہ۔

دلشاد عالم سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان کی فلسطین کے کے ساتھ ہے اور رہا ہے گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف