اداکارہ علیزے شاہ کا معروف گلوکارہ شازیہ منظور پر بے ایمانی کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
معروف نوجوان پاکستانی اداکارہ علیزے شاہ نے سینئر گلوکارہ شازیہ منظور کے حالیہ بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے ان پر بے ایمانی کا الزام عائد کیا ہے۔ علیزے شاہ نے کہا ہے کہ محض سینئر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص ایماندار، باشعور یا باوقار بھی ہو۔
انسٹاگرام پر اپنی اسٹوری میں انہوں نے لکھا کہ صرف اس لیے خلوص کی توقع رکھنا کہ کوئی سینئر ہے، ایسے ہی ہے جیسے دیوار میں سر مارنا۔ سینیارٹی دانائی، وقار یا ایمانداری کی ضمانت نہیں ہوتی۔ سب سے زیادہ مایوس کن بات یہ ہے کہ سینئرز کو بار بار اپنے کام کے بجائے تنازعات کے ذریعے متعلقہ رہتے دیکھنا‘۔
علیزے شاہ نے مزید لکھا کہ ’شازیہ منظور میں دل سے امید کرتی ہوں کہ آپ کا کام آپ کی موسیقی اور ٹیلنٹ کی وجہ سے وائرل ہو، نہ کہ بار بار ماڈلز اور اداکاروں کو مارننگ شوز میں نیچا دکھانے کی وجہ سے۔ اصل قدر کو کبھی دوسروں کو کم تر دکھا کر ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی‘۔
یہ بھی پڑھیں: علیزے شاہ کے الزامات پر شازیہ منظور نے بھی خاموشی توڑ دی
واضح رہے کہ علیزے شاہ اور شازیہ منظور کے درمیان تنازعہ دسمبر 2021 میں اُس وقت سامنے آیا تھا جب ایک شو کے دوران ریمپ پر پرفارمنس کرتے ہوئے علیزے شاہ گر گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد دونوں شخصیات کے درمیان اختلافات سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئے تھے۔
علیزے شاہ نے الزام عائد کیا تھا کہ برائیڈل فیشن شو کے دوران اسٹیج پر ان کا گرنا محض اتفاق نہیں تھا بلکہ شازیہ منظور نے مبینہ طور پر انہیں بار بار پکڑا اور دانستہ طور پر دھکا دیا، جس کے باعث وہ توازن کھو بیٹھیں۔
شازیہ منظور نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علیزے شاہ کو کسی بھی قسم کا دھکا نہیں دیا وہ خود توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور اسٹیج پر پھسل گئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شازیہ منظور علیزے شاہ ویڈیو وائرل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شازیہ منظور علیزے شاہ ویڈیو وائرل علیزے شاہ نے شازیہ منظور
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔