لاہور حادثہ ایک جرم ہے، اس نے میرا سر شرمندگی سے جھکادیا: وزیراعلیٰ پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ لاہور کے دل میں معصوم جانوں کا نقصان محض حادثہ نہیں، ایک جرم ہے۔ اس حادثے نے میرا سر شرمندگی سے جھکادیا ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تاکہ نااہلی چھپی رہ سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے افسر جو ایک کھلے مین ہول کی حفاظت بھی نہیں کرسکتے، انہیں عہدہ رکھنے کا حق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک انصاف نہیں دیا جاتا، جب تک دو بیٹیوں کے خون کا حساب نہیں لیا جاتا، ہر ذمہ دار افسر کو سزا نہیں دی جاتی تب تک چپ نہیں بیٹھوں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میری بار بار دی گئی ہدایات کے باوجود قیمتی جانیں فرائض سے غفلت کے باعث ضائع ہوگئیں۔ جو چیز اور بھی تکلیف دہ ہے وہ سچائی کو دبانے کی کوشش ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ واضح رہے غافل اور بےایمان افسران کا وقت ختم ہوگیا ہے، میں اس خاندان کےلیے ڈھال بنوں گی جسے انصاف کے بجائے ہراساں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہر جان کی قدر کی جائے گی، چاہے ملوث افسر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔