عالمی سرمایہ کاری میں اضافہ، عالمی اقتصادی فورم 2026 میں پاکستان کی کامیاب شرکت
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایس آئی ایف سی پاکستان کی عالمی اقتصادی شراکت داری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں مؤثر اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہو رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی رہنماؤں اور سرمایہ کاروں سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں عالمی قیادت نے پاکستان کی معاشی پیش رفت اور اصلاحاتی اقدامات کو بھرپور سراہا۔
ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک کے صدر کا کہنا ہے کہ اصلاحات اور مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے اعتماد کے باعث پاکستان اقتصادی تبدیلی کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
فورم کے دوران بیرونی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نمایاں اعلانات کیے۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق سرمایہ کاری کے شعبے میں غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
وزیراعظم سمیت وفاقی وزرا کے وفد کے دورۂ ڈیوس 2026 کے دوران بھی عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے اہم اعلانات کیے گئے۔
خرم شہزاد نے بتایا کہ نیسلے نے پاکستان میں مزید 17 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جبکہ نیسلے پاکستان کو علاقائی ایکسپورٹ ہب بنانے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے، جہاں سے 26 ممالک کو برآمدات کی جائیں گی۔
ایس آئی ایف سی کی اصلاحات اور سہولت کاری کے نتیجے میں عالمی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان پر سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری کے سرمایہ کاروں رہا ہے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔