حملے کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، ایرانی فوج
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
تہران: ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ممکنہ حملے سے نمٹنے کے لیے تمام فوجی منصوبے اور احکامات پہلے ہی جاری کر دیے گئے ہیں۔
فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر دشمن نے ایک بار پھر کسی احمقانہ اقدام کی کوشش کی تو ایران بلا تاخیر ردعمل دے گا۔
مزید پڑھیںایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلیے پاکستان کی سفارتی کوششیں شروع
ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ کس کی حکومت ہوگی؟ امریکی وزیر خارجہ نے بتادیا
ایران پہلے سے زیادہ کمزور ہو چکا ہے، امریکی وزیر خارجہ کا بڑا دعویٰ
انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور طیارہ بردار جہاز ایران کے ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق امریکی فوجی اڈے ایران کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی رینج میں ہیں اور اس حوالے سے مکمل منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔
ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ملکی دفاع اور کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینا ایران کی اولین ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔