ویرات کوہلی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اچانک غائب ہونے کی وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
بھارت کے اسٹار بیٹر ویرات کوہلی کا 274 ملین فالوورز والا انسٹاگرام اکاؤنٹ اچانک ڈی ایکٹیویٹ ہوگیا جس پر مداح حیران وپریشان ہوگئے تھے، تاہم کچھ دیر بعد ہی اکاؤنٹ واپس بحال ہوگیا۔
ویرات کوہلی کا شمار دنیا کے بہترین کرکٹرز اور ایتھلیٹس میں ہوتا ہے، وہ اپنی فٹنس کے حوالے سے بھی کافی شہرت رکھتے ہیں جب کہ ان کی سوشل میڈیا پر فالورز کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے، صرف انسٹاگرام پر ان کے فالورز کی تعداد 274 ملین ہے۔
View this post on Instagramتاہم، بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ آج صبح اچانک ڈی ایکٹیویٹ ہوگیا، جس سے مداحوں میں تشویش پھیل گئی۔
Twitter has changed the like button to
Virat Kohli's Instagram account is showing unavailable ????
Top to check ????#ViratKohli???? #viratkohali pic.
ویرات کوہلی کے چاہنے والوں نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تشیویش کا اظہار کیا اور کئی صارفین نے ان کی اہلیہ اداکارہ انوشکا شرما کے اکاؤنٹ کا رخ کیا جب کہ کچھ صارفین نے انسٹاگرام کے آفیشل اکاؤنٹ کو ٹیگ کر کے سوالات اٹھائے۔
https://www.instagram.com/p/DAnB8MhoodQ/?hl=en
مزید پڑھیںویرات کوہلی کی اپنے ننھے ہم شکل سے ملاقات، ’چھوٹا چیکو‘ سوشل میڈیا پر وائرل
موٹر سائیکل پر گھومنے والے ویرات کوہلی اور ایم ایس دھونی، ویڈیو وائرل
تاہم گھبرانے کی بات نہیں کیوں کہ ویرات کوہلی دوبارہ انسٹاگرام پر واپس آچکے ہیں، اگرچہ ویرات کوہلی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اب دوبارہ آن لائن ہے، لیکن اس مختصر وقفے کی اصل وجہ اب بھی ایک سوال بنی ہوئی ہے۔
View this post on Instagramخبر لکھے جانے تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ تکنیکی خرابی تھی یا پھر اسٹار بیٹر نے سوشل میڈیا سے مختصر وقفہ حاصل کیا۔
یہ سب کیسے شروع ہوا؟
جمعہ کی صبح صارفین جب @virat.kohli تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے تو انہیں ایرر میسجز نظر آئے جن میں بتایا گیا کہ صفحہ دستیاب نہیں۔
اس حوالے سے ویرات کوہلی، ان کی مینجمنٹ ٹیم یا میٹا کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انسٹاگرام اکاؤنٹ ویرات کوہلی کا سوشل میڈیا
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔